ایران کے شہر مناب میں قائم ایک لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جاں بحق طالبات کی تعداد بڑھ کر 24 ہوگئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ بتائی گئی تھی، تاہم بعد ازاں غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جانی نقصان میں نمایاں اضافہ ہوا۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ اور خوف کی فضا پائی جاتی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ مقام پر سرگرم ہیں۔
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر وسیع حملوں کے بعد مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تہران، اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ، لورستان اور تبریز میں میزائل گرنے اور زور دار دھماکوں کی خبریں موصول ہوئیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی سات میزائل گرے۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب کے متعدد سینئر کمانڈرز اور کچھ سیاسی شخصیات جاں بحق ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صدر مسعود پزشکیان حملوں میں محفوظ رہے، جبکہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کو احتیاطی تدابیر کے تحت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی اسکول پر اسرائیلی حملہ، جاں بحق طالبات کی تعداد 24 ہوگئی








