روس نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روس کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ یہ حملے دانستہ اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے مسلح اقدامات ہیں، اور ایک آزاد ریاست کے خلاف ایسی جارحیت بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے مذاکراتی عمل کی بحالی کے بہانے کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ایران کے گرد صورتحال کو طویل مدتی بنیادوں پر معمول پر لانا ظاہر کیا جا رہا ہے۔ روس نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایک بار پھر ایسے خطرناک راستے پر گامزن ہیں جو خطے کو انسانی، معاشی اور ممکنہ طور پر تابکاری آفت کی طرف دھکیل رہا ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے عزائم واضح ہیں: وہ ایک ایسی ریاست کے آئینی نظام کو کمزور کرنا اور قیادت کو ہٹانا چاہتے ہیں جس نے طاقت کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکنے کا فیصلہ کیا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے کہا کہ یہ حملے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے بہانے کیے جا رہے ہیں، حالانکہ ایران کی جوہری تنصیبات آئی اے ای اے کی نگرانی میں ہیں، اور ان پر بمباری ناقابل قبول ہے۔
روس نے عالمی برادری، بشمول اقوام متحدہ اور آئی اے ای اے سے اپیل کی ہے کہ وہ اس صورتحال کا معروضی اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔ وزارت خارجہ نے زور دیا کہ سیاسی اور سفارتی راستوں کی طرف فوری واپسی ضروری ہے اور روس ہمیشہ بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور مفادات کے توازن پر مبنی پرامن حل کے فروغ کے لیے تیار ہے۔
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر روس کا شدید ردعمل








