اسلام آباد(ممتاز نیوز)وفاقی دارلحکومت میںسابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کو تین روز بعد ایک سال مکمل ہونے پر مقتولہ کے والد اور سابق سفیر شوکت علی مقدم نے اپنی بیٹی کے بہمانہ قتل پر اجتماع اور سزا پر جلد از جلد عمل درآمد کے لئے اپنے حلقے احباب کو اور نور مقدم کے دوستوں اور ساتھیوں کو20 جولائی کو فاطمہ جناح ایف نائن پارک میں جمع ہونے کی کال دیدی۔واضح رہے کہ نورمقدم کو ملک کے ایک بڑے کاروباری گروپ جعفر برادرز کے مالک ذاکر جعفر کے بگڑے ہوئے امریکی شہریت رکھنے والے بیٹے ظاہر جعفر نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر نور مقدم کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے قتل کردیا تھااور بعد ازاں اس نے امریکہ فرارہونے کی بھی کوشش کی تاہم وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت جبکہ ان کے دو ملازمین جان محمد اور افتخار کو دس، دس سال قید کی سزا سُنائی تھی۔ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔سزائے موت کے ساتھ ساتھ عدالت نے نور مقدم کے ساتھ ریپ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر ظاہر جعفر کو 25 سال قید بامشقت اور دو لاکھ روپے جرمانہ، اغوا کا جرم ثابت ہونے پر دس سال قید بھی سُنائی ہے۔ نور مقدم کو حبس بیجا میں رکھنے پر مجرم ظاہر جعفر کو علیحدہ سے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔
نورمقدم کے قتل کو ایک سال پورا ہونے پر والد شوکت علی مقدم نے 20 جولائی کو اجتماع کی کال دیدی








