پاکستان میں معاشی استحکام کی جانب پیش رفت اور حکومتی اقدامات کے باعث سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مستحکم ہو رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ملک میں سرمایہ کاری کے تسلسل اور مالیاتی استحکام کو تقویت ملی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے ابتدائی 8 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کے منافع اور ڈیویڈنڈ کی مد میں ادائیگیاں 1.73 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.52 فیصد زیادہ ہیں۔
فروری 2026 میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے 48.7 ملین ڈالر کی ادائیگیاں ریکارڈ کی گئیں، جو ملک میں جاری مستحکم کاروباری سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
مختلف شعبوں میں ادائیگیوں کی تفصیل کے مطابق پاور سیکٹر میں 421.85 ملین ڈالر، مالیاتی شعبے میں 374.09 ملین ڈالر، فوڈ سیکٹر میں 142.42 ملین ڈالر، کمیونیکیشن میں 132.3 ملین ڈالر جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 91.29 ملین ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں۔
مشیرِ وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق ایک آزاد سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل تقریباً 60 فیصد سرمایہ کار پاکستان کو سرمایہ کاری کے لیے موزوں سمجھتے تھے، جو اب بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاروں کے مطابق ملک میں استحکام آ رہا ہے، حکومتی مشینری کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے اور سیکیورٹی کا ماحول بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ سازگار ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو آنے والے عرصے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو مزید استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری، غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھنے لگا








