اسلام آباد(نیوزڈیسک)وزیرداخلہ راناثنااللہ نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے تاثرکو مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ یہ نہیں ہوسکتاکہ ہم قومی اسمبلی تحلیل کردیں اور دوصوبوںمیں پی ٹی آئی ہو،ن لیگ میں قبل ازوقت انتخابات کی سوچ ضرورموجود ہے تاہم فیصلہ اتحادی ملکرکریںگے، بیس سیٹوں کے الیکشن کو مقبولیت کا پیمانہ نہیں کہاجاسکتا،عمران خان اتنا آسان نہ سمجھیں،22 تاریخ کو کچھ اور بھی ہوسکتا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ پرویزالٰہی کو آسانی سے وزیراعلیٰ نہیں بننے دیناچاہیے،قیادت نے منظوری دیدی توپانچ سات لوگ ادھرادھرہونامسئلہ نہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے راناثنااللہ نے کہاکہ ہم نے حکومت سنبھالنے اور چلانے کا جو فیصلہ کیا درست کیا، نوازشریف واپس آکر پارٹی کو لیڈکرنے کے لئے تیارہیںوہ ضرورآئیں گےاور اگلی انتخابی مہم کی ہرصورت قیادت کریں گے۔انہوں نےکہاکہ ن لیگ کا کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہے کہ اسمبلی توڑ کرالیکشن میں جارہے ہیں تاہم پارلیمنٹ میں اجتماعی طور پر الیکشن کا فیصلہ ہواتو پاسداری کریںگے، ہم توضمنی الیکشن کے نتائج کوتسلیم کرکے آگے بڑھ رہے ہیں،اتحادیوں کے سامنے سارا معاملہ رکھاجائے گااور اتفاق رائے سے فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ن لیگ میں قبل ازوقت انتخابات کی سوچ موجود ہے تاہم حتمی فیصلہ اتحای جماعتوں کا ہوگا ،یہ نہیں ہوسکتاکہ ہم قومی اسمبلی تحلیل کردیں اور دوصوبوںمیں پی ٹی آئی ہو،عمران خان کو ہمارے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔
ضمنی الیکشن میں پارٹی کی شکست سے متعلق وزیرداخلہ نے کہاکہ ن لیگی قیادت نے عدم اعتماد پر جن کو ٹکٹ دینے کا وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا،تاہم ہمارے کارکنان اور ووٹرزنے ان امیدواروں کو قبول نہیں کیا، پارٹی کے حکم پر وہ ساتھ چل پڑے لیکن ان کے دل ساتھ نہیں تھے،ان امیدواروں پر عمران خان کی ساڑھے تین سالہ حکومت کا بوجھ تھا،ہم لاہور،فیصل آبادسمیت دیگرجگہوں پر ٹکٹ تبدیل کرناچاہتے تھے،ن لیگ کا ووٹ بینک متحرک نہیں ہوا۔
انہوں نے کہاکہ جن کی ابھی ٹکٹ دیاتھا عام انتخابات میں ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے ۔
وزیرداخلہ نے عمران خان پر تنقیدکرتے ہوئے کہاکہ یہ آدمی سیاستدان ہے ہی نہیں یہ ملک کو دوسری طرف لے جارہاہے،15سیٹیں جیتے کے بعد بھی کہہ رہاہے دھاندلی ،اسے شرم آنی چاہیے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ عمران خان نے کیا ہماری ناک میں دم کرناہے،ہم نے اس کی ناک سے دھواں نکال دیناہے۔
انہوں نے کہاکہ عمران اتنا آسان نہ سمجھیں، بائیس تاریخ کو کچھ اور بھی ہوسکتا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ پرویزالٰہی کو آسانی سے وزیراعلیٰ نہیں بننے دیناچاہیے،اگر قیادت نے منظوری دے دی تو پی ٹی آئی کے پانچ سات لوگ ادھر ادھرہونامسئلہ نہیں۔
انہوں نے کہاکہ جلسے ہمارے بھی شاندارتھے ،ووٹ ہمیں بھی زبردست پڑاہے، جس دن مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کا مقابلہ ہوگادعویٰ کرتا ہوں ہم جیتیں گے۔
راناثنااللہ نے کہاکہ بیس سیٹوں کے الیکشن کو مقبولیت کا پیمانہ نہیں کہاجاسکتا، ن لیگ آج بھی مقبول ہے ،یہ اگلے الیکشن میں ہم ثابت کردیں گے، یہ20سیٹیں تحریک انصاف کی ہی تھیں جس میں سے ہم پانچ جیتے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں وقتی نقصان ہواتاہم آئندہ الیکشن میں یہ نقصان پوراہواجائے گا۔
قبل ازیں لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک پاگل شخص جیت کربھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی، کیا 20کی 20سیٹیں جیتوگے توپھرشفاف الیکشن ہوں گے؟ اپنا گھٹیا پن اس سے چھپائے نہیں چھپتا، جب تم حکومت میں تھے تو تم نے الیکشن میں دھاندلی کروائی، جب تم حکومت میں تھے توتم نے الیکشن کا عملہ اغوا کروایا، ضمنی الیکشن میں کسی بھی الیکشن عملے کواغوا نہیں کیا گیا، اس کے باوجود تم الیکشن کمشنرکی ذات کونشانہ بنارہے ہو۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اس مہم جوئی کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتی ہے، تم اداروں سے دھونس، بلیک میلنگ کرکے اپنی بات نہیں منوا سکتے۔ اداروں کے خلاف گھٹیا گفتگو کی جا رہی ہے، ہم اس حوالے سے بھرپورجواب دیں گے، چیف الیکشن کمشنراوران کے تمام ممبران پر پوری قوم کو اعتماد اور انکے ساتھ کھڑے ہیں، ہم توہارنے کے باوجود الیکشن کمیشن پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، یہ تو جیت کر بھی کہہ رہا ہے دھاندلی ہوئی ہے، فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ محفوظ ہوا ہے، اس لیے ایسی گفتگو کر رہا ہے، آج اس نے بے معنی اورآوارہ قسم کی گفتگوکی گئی۔ یہ آدمی ہروقت اداروں کے خلاف الزام لگاتا ہے، اداروں کواس کی بلیک میلنگ میں نہیں آنا چاہیے، یہ تاریخ کا پہلا الیکشن ہے جس میں کوئی جانی ومالی نقصان نہیں ہوا۔ہم اس کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے، ادارے جھوٹے بدمعاش کے چکروں میں نہ آئیں، جب اس کوسختی سے ہینڈل کیا گیا تو پھر ڈی چوک سے ہی تقریر کر کے چلا گیا تھا۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج سے 15 دن پہلے ایک خاتون کے خلاف ہم نے شواہد پیش کیے تھے، القادرٹرسٹ کی زمین پر50ارب کی رشوت وصول کی گئی، آپ کوتویہ بھی نہیں پتا آپ کے کتنے بچے کہاں،کہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں عمران خان نے چیف الیکشن کمشنرسے چور دروازے سے ملاقات کرنے کی کوشش کی، جب چیف الیکشن کمشنرنے ملاقات سے انکار کیا تو اس طرح کی گفتگو شروع کر دی۔ صاف شفاف ضمنی انتخابات قوم کے سامنے ہے، بیس حلقوں میں جن کوامیدوارنامزد کیا تھا ساڑھے تین سالوں کابوجھ ان کے سر پر تھا، پارٹی کے ووٹرزسے بھی امیدواروں کومکمل سپورٹ نہ مل سکی، مسلم لیگ(ن) کے لوگوں نے بھی ان کا دفاع نہیں کیا، آئندہ الیکشن میں بہترامیدواروں کا انتخاب کریں گے، پنجاب میاں نوازشریف کا تھا اوراگلے الیکشن میں ثابت کریں گے، نوازشریف نے ملک کوایٹمی قوت بنایا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جو بھی اتحادی جماعتیں فیصلہ کریں گی وہی فیصلہ ہو گا، بعض دوستوں کی رائے تھی بدبخت، پاگل شخص کو بھی مبارکباد دی جائے، جس طرح آج گفتگوکی گئی اس کے بعد مناسب نہیں سمجھا، شہبازشریف نے ہمیشہ نوازشریف کواپنا قائد سمجھا، اگرعمران خان الیکشن کے لیے مخلص ہوتا تو پہلے وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا کی حکومت چھوڑتے، اگرہم کل کو الیکشن کا اعلان کردیتے ہیں تو پھریہ کہے گا پہلے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کرو، یہ نوجوانوں کو گمراہ اورقوم کوتقسیم کرنا چاہتا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران میاں جاوید لطیف کی پریس کانفرنس سے متعلق رانا ثناء اللہ نے جواب دینے سے گریز کیا اور اتنا کہہ دیا چھوڑو یار کوئی اور بات کرو۔
انہوں نے کہا کہ فری اینڈ فیئرالیکشن کرانا (ن) لیگ کی جیت ہے، آئندہ بھی الیکشن شفاف ہوگا، کوئی مداخلت نہیں ہوگی۔
20سیٹوں کاالیکشن مقبولیت کا پیمانہ نہیں، عمران اتنا آسان نہ سمجھیں،22 تاریخ کو کچھ اور بھی ہوسکتا ہے،راناثنااللہ







