پاکستانی نژاد امریکی ماہرِ معاشیات عاطف میاں(Atif Mian) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں پاکستان کی توانائی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور توانائی کی لاگت کے درمیان بڑا فرق کسی معاشی مجبوری سے زیادہ پالیسی ناکامی کی علامت ہے۔
انہوں نے اپنے تجزیے میں دعویٰ کیا کہ اگر توانائی کے متبادل اور جدید نظام کو مؤثر انداز میں اپنایا جائے تو سفر کی لاگت آج کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق عام شہری بنیادی طور پر پیٹرول نہیں بلکہ سفر کی سہولت استعمال کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع پر توجہ ضروری ہے۔
عاطف میاں نے کہا کہ پاکستان شمسی توانائی کے لحاظ سے دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں بجلی کی پیداوار کی لاگت نسبتاً کم ہو سکتی ہے، لیکن پالیسی سطح پر موجود رکاوٹیں اس صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال نہیں ہونے دیتیں۔
مزیدپڑھیں:آبنائے ہرمز پر نقل و حمل کی آزادی دائمی جنگ بندی سے مشروط قرار
انہوں نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا کہ اگر بجلی، الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری سسٹمز اور اسمارٹ پرائسنگ جیسے نظام کو فروغ دیا جائے تو نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو سکتا ہے بلکہ مقامی سطح پر سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
تجزیے میں مزید کہا گیا کہ توانائی کے شعبے میں طویل مدتی منصوبہ بندی کے بجائے روایتی نظام پر انحصار نے لاگت میں اضافہ کیا ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی طرف منتقلی معاشی دباؤ کو کم کر سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کے بہتر نظام سے نہ صرف معیشت مستحکم ہو سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور عوامی صحت میں بہتری جیسے فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔









