ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب (Revolutionary Guards) نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک ایران سے بحری جہازوں کی آمد و رفت پر عائد امریکی پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول جاری رہے گا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے موجودہ صورتحال کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا ہے، جس سے عالمی بحری تجارت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران کا فضائی حدود کھولنے کا اعلان
ایرانی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ تہران فی الحال امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور پر آمادہ نہیں ہوا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل برقرار ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے بعد 23 بحری جہازوں کو واپس جانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
سینٹکام کے مطابق امریکی فورسز کی جانب سے 13 اپریل کو شروع کی گئی کارروائی اور پابندیاں اب بھی نافذ العمل ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے، جبکہ تجارتی بحری راستوں کی صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔









