امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت وفاقی شرعی عدالت کے سود پر فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اپیل واپس لے، سودی نظام اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ اور آئین پاکستان کی مخالفت ہے، حکمران استعمار کے دباؤ پر دین بیزار اور عوام دشمن اقدامات سے باز رہیں، قرضوں کی معیشت سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، تمام غیر ملکی معاہدات کو پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط کر کے معاہدوں کی تفصیلات کو پبلک کیا جائے، عوام مہنگائی، بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، کرپشن مسائل کی جڑ ہے، بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے مہنگائی کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے طاقتور اشرافیہ، سول و ملٹری بیوروکریسی، وزرا، ارکان پارلیمنٹ، ججز اور دیگربڑے عہدوں پر فائز افراد کی مراعات جن میں مفت پٹرول، بجلی اور سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال شامل ہے، پر پابندی عائد کی جائے، ملک میں آٹھ کروڑ سے زائد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بیڈگورننس، وی آئی پی کلچر اور حکمرانوں کی غیرسنجیدگی اور نااہلی کی وجہ سے مسائل میں ہر آئے روز اضافہ ہو رہا ہے،سودی نظام جاری رہا تو ترقی و خوشحالی نہیں آئے گی، پاکستان کو اسلامی نظام چاہیے، مختلف سرویز کے مطابق83فیصد عوام فوری طور پر سود سے نجات چاہتے ہیں، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو فی الفور نافذ کیا جائے،جماعت اسلامی عوام کی تائید سے اقتدار میں آ کر زکوٰۃ و عُشر کا نظام نافذ کرے گی اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔
منصورہ سے جاری ایک بیان میں امیر جماعت نے کہا کہ پاکستان پر آئی ایم ایف، ورلڈ بنک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے بوجھ کو ختم کرنے کے لیے عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پہلے سے قائم شدہ مثالوں سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو بیرون ملک سے واپس لانے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں، غیرترقیاتی اور دفاعی اداروں کے غیرجنگی اخراجات پر کٹ لگایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ معیشت میں بہتری نہ آئے۔ مسلسل خسارے میں چلنے ا ور ہر سال چھ سو ارب روپے کا نقصان کرنے والے اداروں اور کارپوریشنز کے بارے میں پارلیمنٹ کی مشاورت سے ٹھوس اور مستقل فیصلے کیے جائیں۔ قومی ترقی میں سمندر پار پاکستانیوں کی بھرپور شمولیت ہو جائے تو بحرانوں سے نکلنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مائیکرواکانومک پالیسی کے ذریعے بزنس اور سروسز سیکٹرز کے ساتھ زراعت اور صنعت کو بھی ترجیح اول دی جائے۔ بنجر زمینوں کی آبادکاری اور کسانوں کو سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔
انھوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کی بجائے متبادل ذرائع توانائی کا استعمال عمل میں لایا جائے۔
انھوں نے کہا کہ ایف بی آر، نیب اینٹی کرپشن، پبلک اکاؤنٹس کمیٹیوں کے قوانین اور کارکردگی کے جائزہ کے لیے خودکار کمیشن قائم کیا جائے۔ صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ ذاتی کاروبار نہ کرنے کا رضاکارانہ اعلان کریں۔ تمام سرکاری و غیر سرکاری ترقیاتی منصوبوں کو پارلیمانی سکروٹنی کے عمل سے گزارا جائے۔ وزیرخزانہ کے مطابق تین ہزار ارب روپے کی ٹیکس چوری ہو رہی ہے، حکومت اطلاع دینے کی بجائے اس چوری کے خاتمہ کے انتظامات کرے۔ تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے بہترین اہداف مقرر کیے جائیں۔ نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر 35ارب ڈالر تک بڑھائے جائیں۔ قومی و صوبائی ترجیحات میں صحت اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ترجیح دی جائے۔
سراج الحق نے کہا کہ تینوں بڑی جماعتیں ملک کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ اب عوام کے پاس جماعت اسلامی واحد آپشن کے طور پر موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ قوم آزمائے ہوئے جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو مسترد کر کے اہل اور ایمان دار لوگوں کو آگے لائے تاکہ کرپشن فری اسلامی پاکستان کی بنیاد رکھی جائے۔
حکمران استعمار کے دباؤ پر دین بیزار اور عوام دشمن اقدامات سے باز رہیں،سراج الحق








