بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے، ممکنہ جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز

اسلام آباد (صغیر چوہدری )امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جن میں چین کا کردار خاص طور پر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیجنگ نے خاموش مگر مؤثر سفارتکاری کے ذریعے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق چین نے اپنے قریبی اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے تہران کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات جاری رکھنے پر آمادہ کیا، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ بھی بیک چینل رابطے برقرار رکھے گئے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ چین کی یہ حکمت عملی کھلی مداخلت کے بجائے خاموش ثالثی پر مبنی تھی، جس کے تحت براہِ راست بیانات سے گریز کرتے ہوئے عملی اقدامات پر توجہ دی گئی۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے مختلف مواقع پر جنگ بندی کو نازک مگر ضروری قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس عمل کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کرے۔ بیجنگ کی جانب سے بارہا اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں کشیدگی نہ صرف سیکیورٹی بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً توانائی کی سپلائی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق چین نے پاکستان کے ساتھ قریبی رابطہ رکھتے ہوئے ایک ممکنہ سفارتی فریم ورک پر بھی کام کیا، جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا تھا۔ پاکستان جہاں براہِ راست مذاکراتی عمل میں متحرک نظر آیا، وہیں چین نے عالمی سطح پر حمایت اور سفارتی دباؤ فراہم کر کے اس عمل کو تقویت دی۔
ماہرین کے مطابق چین اس بحران کو ایک موقع کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے تاکہ خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت اور مؤثر ثالث کے طور پر منوا سکے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کی پالیسیوں پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب چین ایران کا بڑا تیل کا خریدار بھی ہے، اس لیے بیجنگ کی اولین ترجیح خطے میں استحکام اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے بچاؤ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی بدامنی عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین نے براہِ راست مذاکرات کی قیادت نہیں کی، تاہم اس کی پسِ پردہ سفارتکاری، علاقائی روابط اور عالمی اثر و رسوخ نے جنگ بندی کے امکانات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے امریکہ ایران کشیدگی میں چین کا کردار بظاہر خاموش ضرور ہے، مگر اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ بیجنگ کی محتاط مگر مسلسل سفارتی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے معاشی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر اپنی حیثیت بھی مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے