لاہور(نیوز ڈیسک )پاکستان مسلم لیگ (ن )کے سابق ایم پی اے افتخار بلوچ کو نامعلوم افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب کے ضلع جھنگ سے سابق لیگی ایم پی اے افتخار بلوچ پر تشدد کا واقعہ تھانہ مسن کی حدود کالا بالیاں کے قریب پیش آیا ہے۔
افتخار بلوچ پر تشدد کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی، تاہم سابق ایم پی اے نے پولیس کارروائی سے انکار کردیا، انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی کارروائی نہیں کرنی میں خود ہی نمٹ لوں گا۔
سابق ایم پی اے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ کار میں آرہا تھا کہ 2 کاروں میں سوار 10 افراد نے میرا راستہ روکا اور گاڑی سے اتار کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے میرے کپڑے پھاڑ دیے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں چند روز قبل ہونے ہونے ضمنی الیکشن میں ن لیگ نے افتخار بلوچ کو پارٹی ٹکٹ جاری نہیں کیا تھا، جس پر انہوں نے نے پی پی 125 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا تھا اور تیسرے نمبر پر آئے تھے، وہ ماضی میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر ایم پی اے بھی رہے ہیں۔
دریں اثناء وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے جھنگ سے سابق ایم پی اے افتخار احمد پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔
حمزہ شہباز نے کہا کہ سابق ایم پی اے پر تشدد کے ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔
سابق ایم پی اے افتخار احمد پر نامعلوم افراد کے تشدد کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔
ترجمان پولیس کے مطابق تشدد کے باوجود افتخار احمد نے کسی قسم کی کارروائی سے انکار کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایس پی انویسٹی گیشن عثمان منیر سیفی کی افتخار احمد خان بلوچ سے ملاقات ہوئی۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ سابق ایم پی اے پر تشدد کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق تشدد میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا سابق ایم پی اے افتخار احمد پر تشدد کا نوٹس








