جھنگ (ممتاز نیوز) جھنگ کے نواحی علاقے مسن میں نامعلوم مسلح افراد کی ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والے پنجاب اسمبلی کے سابق رکن افتخار بلوچ خارجہ امور کی وزیر مملکت حنا ربانی کھر کےچھوٹے بھائی ملک غلام رضاربانی کھر کے سسر ہیں، حناربانی کھر کے بھائی اس وقت مظفر گڑھ سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پرقومی اسمبلی کے رکن ہیں۔افتخار بلوچ نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 125 جھنگ سے حالیہ ضمنی انتخابات میں بطور آزاد امیدوار حصہ لیا تھاان پر مسلح افراد کی طرف سے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افتخار بلوچ اپنی گاڑی میں جا رہے ہوتے ہیں کہ دو کاروں میں سوار مسلح افراد آکر ان کی گاڑی روکتے اور ان پر بیہمانہ تشدد کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افتخار بلوچ ملزمان سے بار بار پوچھ رہے ہیں کہ ان پر تشدد کی وجہ کیا ہے لیکن ملزمان انہیں مارتے رہتے ہیں۔
ملزمان کی جانب سے افتخار بلوچ پر نہ صرف تشدد کیا گیا بلکہ ان کے کپڑے پھاڑ کر انہیں برہنہ بھی کردیا گیا۔ وہ ملزمان کو دہائی دیتے رہے کہ وہ مریض ہیں لیکن تشدد کرنے والوں نے ان کی ایک نہ سنی ۔
واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس بھی حرکت میں آگئی۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آئی جی آفس نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او جھنگ کو ملزمان کی گرفتاری کا ٹاسک دیا ہے۔ ڈی پی او جھنگ نے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جلد ہی ملزمان کو ٹریس کرکے گرفتار کر لیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ تشدد کرنے والے ملزموں کی جلدگرفتاری یقینی بنائی جائے۔افتخار بلوچ نے کہا ہےکہ پولیس حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ انصاف ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ جن افراد نے حملہ کیا میں انہیں نہیں جانتا اگر انصاف نہ ہواتو پھر مشاورت سے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرونگا ۔ انہوںنے کہا کہ پولیس کو ملزمان ڈھونڈنے کا موقع دے رہا ہوں پھر میں خود ڈھونڈونگا ۔
خیال رہے کہ پی پی 125 جھنگ کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار اعظم چیلہ نے کامیابی حاصل کی تھی جب کہ افتخار بلوچ سات ہزار 497 ووٹ لے کر یہاں تیسرے نمبر پر رہے تھے۔









