وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ(Rana Sanaullah) نے کہا کہ سڑکوں کا مضبوط نظام ہی ترقی کی ضمانت ہوتا ہے، نفرت کی سیاست ہمیشہ ہی ناکام ہوتی ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک یا معاشرے کی پائیدار اور ہمہ جہت ترقی کا دارومدار جدید اور منظم انفراسٹرکچر خصوصاً سڑکوں کے مضبوط نظام پر مبنی ہوتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے اپنے حلقہ میں سڑکوں کی تعمیرو مرمت کے ایک بڑے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ترقیاتی منصوبے اکثر محدود پیمانے پر کیے جاتے رہے، کہیں ایک کلومیٹر سڑک بن گئی، کہیں دو یا تین کلومیٹر، لیکن اس طرح کے غیر مربوط منصوبے عوامی ضروریات کو مکمل طور پر پورا نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ پورے حلقے کو ایک جامع اور مربوط سڑکوں کے جال سے منسلک کیا جائے تاکہ ہر گاؤں کے رہائشیوں کو یکساں سہولیات میسر آئیں اور وہ باآسانی شہروں تک رسائی حاصل کر سکیں۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا کہ دنیا کی ترقی کی رفتار ہمیشہ ذرائع آمدورفت سے جڑی رہی ہے، انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب دنیا گھوڑوں، خچروں اور اونٹوں پر سفر کرتی تھی تو ترقی کی رفتار بھی محدود تھی، لیکن آج جب دنیا ہوائی جہازوں کے ذریعے سفر کر رہی ہے تو ترقی کی رفتار بھی اسی قدر تیز ہو چکی ہے۔
مزیدپڑھیں:امریکا ایران مذاکرات میں تعطل: تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ
ان کا مزید کہنا تھا کہ سڑکوں کے بغیر ترقی کا تصور بھی ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت اس شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 30 کلومیٹر طویل ایک اہم سڑک تعمیر کی جا رہی ہے جو مختلف چکوں اور دیہات کو آپس میں ملاتے ہوئے مرکزی شاہراہوں سے منسلک کرے گی۔
رانا ثنا کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ تقریباً 85 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے اور اس کی کارپٹنگ میں اعلیٰ معیار کا میٹریل استعمال کیا جائے گا تاکہ سڑک کم از کم آئندہ 10 برس تک بہترین حالت میں رہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس سڑک کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ یا تو دیہات کے اندر سے گزرے گی یا ان کے قریب سے جبکہ باقی ماندہ دیہات کو لنک روڈز کے ذریعے اس شاہراہ سے جوڑا جائے گا جس سے پورے حلقے میں آمدورفت کا نظام یکساں طور پر بہتر ہو جائے گا۔









