افغان طالبان رجیم اور ملا ہیبت اللہ(Hibatullah Akhundzada) کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل میں شدت آ گئی ہے، جبکہ جلال آباد کے علاقے غنڈ سے ایک افغان شہری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس نے موجودہ صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں ایک افغان شہری طالبان کے ملٹری کیمپ کے باہر کھڑا ہو کر نہ صرف اپنی معاشی مشکلات کا ذکر کرتا ہے بلکہ موجودہ پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کرتا ہے۔ شہری کا کہنا ہے کہ طالبان کی معاشی حکمت عملی نے عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ویڈیو میں مذکورہ شخص نے پاکستان کی عسکری قیادت کے لیے مثبت جذبات کا اظہار بھی کیا۔ اس نے اپنے پیغام میں کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔
افغان شہری نے یہ بھی کہا کہ جنگوں میں مسلمانوں کا خون بہنے سے روکنے کے لیے پاکستان کی حکمت عملی ایک ذمہ دارانہ اقدام تھا، جسے دنیا بھر میں سراہا جانا چاہیے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہری ایک تحریری پیغام کے ذریعے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہے، جس میں پاکستان اور اس کی عسکری قیادت کے لیے نیک خواہشات کا ذکر موجود ہے۔
مزیدپڑھیں:شعیب ملک کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے جم کے اوقات کار بڑھانے کا مطالبہ
دوسری جانب، شہری نے طالبان حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نام نہاد اسلامی نظام کے نام پر اپنی ہی عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق، بنیادی سہولیات کی کمی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی نے عوام کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
افغان طالبان رجیم اور ملا ہیبت اللہ کی آمرانہ پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل مزید سخت ہوگیا.جلال آباد میں طالبان رجیم کے ملٹری کیمپ کے باہر سے افغان شہری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل.افغان طالبان رجیم کی معاشی پالیسیوں سے تنگ افغان شہری نے اپنے پیغام میں پاکستانی عسکری قیادت سے… pic.twitter.com/f3lTf9T4GV
— PTV News (@PTVNewsOfficial) April 28, 2026









