گیس کا بحران آر ایل این جی(RLNG) نہ آنے کی وجہ سے شدت اختیار کر گیا۔
ذرائع سوئی ناردرن کے مطابق آر ایل این جی کے موجودہ ذخائر میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے، پاور اور کھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ گھریلو صارفین کو بھی سپلائی میں کمی کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق گیس کی سپلائی صرف 700 ملین کیوبک فٹ پرآگئی جو ایران امریکا جنگ سے پہلے روزانہ 1200 ملین کیوبک فٹ تھی۔
ذرائع سوئی ناردرن کا کہنا ہے گیس کا شارٹ فال600 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:آئی پی ایل 2026ء: شاندار کارکردگی دکھانے والے شریاس ایئر کو کس تنقیدی جملے نے بدلا؟
دوسری جانب سوئی گیس حکام کا کہنا ہے کہ کھانے کے تینوں اوقات میں پوری گیس فراہم کی جا رہی ہے۔









