والد، چچا اور دادا کے قتل کے کیس میں ملزمان کے بری ہونے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے امِ رباب (Umme Rubab)نے سندھ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔
سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ام رباب چانڈیو نے کہا ہے کہ کیس میں اپیل سننے کی درخواست سندھ ہائی کورٹ نے منظور کر لی، درخواست چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر منظور کی۔
ان کا کہنا ہے کہ میہڑ دادو میں تہرے قتل کیس کی سماعت 8 سال تک ہوئی، 17 گواہان اور 3 عینی شاہدین کے بیانات قلم بند ہوئے تھے، ملزمان کی گرفتار پر پولیس افسر کو صدارتی ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امِ رباب چانڈیو کے وکیل صلاح الدین پہنور ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے ہمارے شواہد کا صیح طرح جائزہ نہیں لیا، ہائی کورٹ کے سامنے اپنا کیس رکھیں گے۔
مزیدپڑھیں:پاک فوج نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو تباہ کردیا: سیکیورٹی ذرائع
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ میہڑ کی امِ رباب چانڈیو کے والد تمندار مختار علی چانڈیو، دادا رئیس کرم اللّٰہ چانڈیو اور چچا قابل چانڈیو کے تہرے قتل کیس کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔
دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔









