بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ادارے بند کمروں میں فیصلے کریں گے تو عوامی جذبات مجروح ہوں گے،سراج الحق

 لاہور(نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے دو روز قبل انھیں ملتوی کر دینا انتہائی جانبدارانہ اور متنازع اقدام ہے، الیکشن کمیشن نے حکومتی پارٹیوں سے سازباز کر کے عوام کو حق رائے دہی سے محروم رکھا، تاریخ بتاتی ہے کہ جمہوری ممالک میں جنگ کے دوران بھی انتخابات کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچا۔ ایسی کون سی ایمرجنسی آ پڑی تھی کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ فیصلہ کیا، ادارے اپنی مرضی سے بند کمروں میں فیصلے کریں گے تو عوامی جذبات مزید مجروح ہوں گے، جمہوری عمل کے تسلسل اور عوام کے فیصلوں پر اعتماد کر کے ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں مرکزی ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سراج الحق نے کہا کہ حکمران سیاسی جماعتیں آپسی مفادات کی لڑائی میں ملک تباہ ہو گیا، روم جل گیااور نیرو بانسری بجا رہا تھا۔گزشتہ کئی ماہ سے اقتدار کے حصول کے لیے تماشا لگا ہوا ہے اور عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس کر رہ گئے ہیں۔ ملک میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جب کہ اسلام آباد کے ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے حکمران سیاسی شطرنج کے داؤپیچ کھیل رہے ہیں۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے مکمل دور ہو گئیں، اگر ایک طرف لوڈشیڈنگ ہے تو دوسری جانب بجلی کے فی یونٹ نرخ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے ڈیڑھ ارب لینے کے عوض حکومت بجلی کی فی یونٹ قیمت 40روپے تک لے جانے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ غریبوں پر بجلی گرانے کی بجائے حکمران اشرافیہ، سول و ملٹری بیوروکریسی، ججز، اراکین اسمبلی کو سبسڈی کی مد میں اربوں روپے کی مراعات اور مفت بجلی کی فراہمی ختم ہونی چاہیے۔ حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی الفور سو روپے فی لٹر کمی کرے، گیس کے نرخ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں 35سے 50فیصد کم کی جائیں۔ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی اقتدار کے حصول کی جنگ میں اس قدر نہ جائیں کہ پہلے سے تباہ حال ملک میں مزید تباہی آئے۔ بار بار کہہ چکے ہیں کہ حکمران سیاسی جماعتیں سنجیدگی کا راستہ اپنائیں۔
انہوں نے کہاکہ  لوگوں کے گھر بارشوں اور سیلاب میں بہہ رہے ہیں،حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ڈالر کی بلند پرواز جاری ہے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ملکی کرنسی آنے والے دنوں میں اپنا وجود ہی کھو دے گی۔ معیشت، سیاست اور معاشرت میں تباہی کی ذمہ داران ماضی اور موجودہ حکومتیں ہیں۔ ہمیں پتوں اور شاخوں میں الجھنے کی بجائے جڑ کو ٹھیک کرنا پڑے گا۔ جاگیردار، وڈیرے اور کرپٹ سرمایہ دار مسائل کی جڑ ہیں۔ عوام ووٹ کی طاقت سے ان سے نجات حاصل کریں اور اہل و ایمان دار قیادت کا انتخاب کر کے کرپشن فری اسلامی پاکستان کی بنیاد رکھے۔
امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی کا یقین ہے کہ مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ معیشت میں بہتری لانے کے لیے سب سے پہلے سودی نظام کو خیرباد کہنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ استعمار کے وفادار حکمران آئین پاکستان اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف سودی نظام جاری رکھنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ جماعت اسلامی اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکاما ت کے خلاف جنگ کرنے والوں کے خلاف جنگ کرے گی۔ عوام کی اکثریت ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ اور سودی معیشت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ حکومت فی الفور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں کی گئی اپیل کوواپس لینے کا اعلان کرے اور معیشت کو اسلامی بنانے کا روڈمیپ دے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہمارا مقصد اوّل ہے۔