کراچی، سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں 25 ارب روپے کی مبینہ خورد برد(currpution in worker welfare bord sindh) کا انکشاف ہوا ہے۔ ٹریڈ یونینز اور مزدور رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں مبینہ خورد برد کا انکشاف کیا۔
ٹریڈ یونین رہنماؤں نے الزام لگایا کہ مزدوروں کی انشورنس کے نام پر 8 ارب روپے نجی کمپنی کوغیر قانونی طور پرجاری کیے گئے ، مرمت کے نام پر اربوں کے جعلی ٹینڈرز جاری ہوئے۔
ای بائیک اسکیم کے لیے 3 ارب اور سلائی مشینوں کے لیے 70 کروڑ کے مشکوک ٹھیکے دیے گئے ، کلفٹن میں ایک ارب روپے کا غیرضروری دفتر خریدا گیا ، جس کا قبضہ اب بھی نہیں ملا۔
ٹریڈ یونینز اور مزدور رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ انتظامیہ نے مزدوروں کے اربوں روپے لوٹے، کڑا احتساب کیا جائے۔
ٹریڈ یونین کے رہنما ناصر منصور نے کہا کہ مزدوروں کی انشورنس کے نام پر 8 ارب روپے نجی کمپنی کو غیر قانونی طور پرجاری کیے گئے، مرمت کے نام پر اربوں کے جعلی ٹینڈرز جاری ہوئے، نئے فلیٹس بن سکتے تھے۔
ٹریڈ یونین رہنما زہراء خان نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن کے نام پر 45 کروڑ روپے کی ادائیگی ہوئی مگر کوئی کام نہیں ہوا، مزدور دشمن عناصر کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی، بورڈ کو مفلوج نہیں ہونے دیں گے۔
مزید پڑھیں:عذرا فضل پیچوہو کا کامسٹیک دورہ، پاکستان چین صحت تعاون کے فروغ پر زور
ٹریڈ یونین کے رہنما ناصر منصور نے مطالبہ کیا کہ بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سندھ مداخلت کریں، لوٹی گئی رقم واپس لی جائے۔









