خیبرپختونخوا(Khyber Pakhtunkhwa) کے اضلاع بنوں اور شمالی وزیرستان سے پولیو کے دو نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس کے بعد ملک میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 3 ہو گئی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے مطابق پولیو کے خاتمے کے لیے ہدف کے مطابق اقدامات اور مؤثر حکمتِ عملی پر مسلسل عمل جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ایک لاعلاج مرض ہے، تاہم بروقت ویکسی نیشن کے ذریعے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
ای او سی نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ انہیں اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔
حکام کے مطابق رواں ماہ ملک کے مختلف مخصوص اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم شروع کی جائے گی، جس کے دوران تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین دی جائے گی۔









