وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ ( (Attaullah Tarar نے کہا کہ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد پاکستان دنیا میں امن کا علمبردار بن کر ابھرا ہے۔معرکۂ حق صرف زمینی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی لڑا گیا، جہاں پاکستان نے مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا اور کامیابی حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا میں بہت سے لوگ پاکستان سے اپنے تعلق پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ شہباز شریف (Shehbaz Sharif )نے پی ایم اے کاکول میں پہلگام واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اس پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دہشت گردی کے ہر واقعے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے پہلگام واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شواہد بھی طلب کیے، لیکن جواب میں خاموشی سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہر طبقہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہا ہے، جن میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) اور جعفر ایکسپریس جیسے سانحات شامل ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک طرف پاکستان دہشت گردی کے خلاف مسلسل جدوجہد کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت پر ایسے واقعات سے جڑے سوالات اٹھتے رہے ہیں، جن میں کلبھوشن یادیو جیسے کیسز بھی شامل ہیں۔
مزیدپڑھیں:پھرہیراپھیری کو غیر قانونی قرار دینے پر تنازع شدت اختیار کر گیا
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے جبکہ پاکستان اس کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا بیانیہ مؤثر انداز میں پیش کیا گیا، جس میں وزارت اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے درمیان بہترین ہم آہنگی دیکھنے میں آئی۔
انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کی تاریخ میں سوشل میڈیا صارفین اور نوجوانوں کے کردار کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے پاکستان کا مؤقف دنیا بھر میں اجاگر کیا۔ ان کے مطابق بیانیے کی جنگ میں پاکستانی نوجوانوں نے اہم کردار ادا کیا۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ جب بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندیاں لگائیں تو پاکستانی مواد اور قومی نغمے بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی مؤثر انداز میں پیش کیے گئے، جس سے پاکستان کے بیانیے کو مزید تقویت ملی۔









