لاہور (نیوزڈیسک)سابق وزیراعظم وپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ وہ انتخابی اصلاحات ،معیشت اور فوج کے کردار جیسے تین اہم معاملات پرمخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشروط پر مل بیٹھنے کو تیارہیں ، اب وقت آگیاہے کہ تمام ادارے اپنی حدودمیں رہیں، پاکستان اس وقت برے حالات سے گزر رہا ہے جس کا ہمیں کوئی راستہ نکالنا چاہیے ،مسئلہ یہ ہے کہ ہم جب کبھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو کہا جاتا ہے ہمارے کیسز ،ہمارا این آر او اور ہمارا احتساب پر سب سے پہلے بات کریں۔جمعہ کوزمان پارک میں اپنی رہائش گاہ پرسینئرصحافیوں سےملاقات میں گفتگو کے دوران جب بعض صحافیوں کی طرف سے عمران خان سے کہاگیا کہ وہ فوج کے کردار کے حوالے سے اپنا کردار اداکریں تو عمران خان نے کہا کہ وہ یہ سب چیزیں کرنے کو تیار ہیں ۔انہوں نے کہاکہ تین معاملات پر مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے کو تیارہیں ،ان میں پہلا انتخابی اصلاحات کا معاملہ ہےاس حوالے سے ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ آئیں اور بیٹھیں ،انتخابات کا تاریخ دیں اور پھرآئیں اور انتخابی اصلاحات پر بات کریں ۔دوسراہم معیشت پر ہم بات کرنے کو تیار ہیں ، پاکستان اس وقت برے حالات سے گزر رہا ہے جس کا ہمیں کوئی راستہ نکالنا چاہیے ،ہم اس حوالے سے ایک سسٹم بنا ئیں جس کے مطابق چلیں ، پھر فوج کے حوالے سے بات چیت ہونی چاہیے ۔ملاقات کے دوران فوج میں تقرری اور توسیع پر بھی بات ہوئی اور کہاگیا کہ توسیع کا باب بند ہونا چاہیے جس پر عمران خان نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے ،اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہونا چاہیے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہوتا یہ ہے کہ ہم جب کبھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو وہ پہلے چوری اور این آر او کی بات کرتے ہیں ، کہا جاتا ہے ہمارے کیسز ،ہمارا این آر او اور ہمارا احتساب، ان چیزوں پر سب سے پہلے بات کریں ۔انہوں نےکہاکہ اگر سیاسی جماعتیں یہ حرکت نہ کریں تو پاکستان کے اہم ترین معاملات پر بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہوں ،بس وہ انتخابات کی تاریخ دے دیں اور آکر بات کریں ۔ادھر نجی ٹی وی کے مطابق عمران خان نے کہاکہ نیوٹرلز کو پہلے ہی کہا تھا عوام نکلیں گے تو سب کو سمجھ آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کھڑے ہوجائیں تو سرکاری ملازم ان کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ضمنی انتخاب میں جس طرح لوگ باہر نکلے اس پر حیران ہوں۔ عمران خان نے زور دیا کہ نیوٹرلز کو پہلے ہی کہا تھا جب عوام نکلیں گے تو سب کو سمجھ آجائے گا، سنا ہے اب ڈپٹی اسپیکر کو بھی سمجھ آرہا ہے اور وہ ٹھیک ہو رہے ہیں۔چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نےکہا کہ میں پنجاب کےمعاملات میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لوں گا ،ہفتے میں 2 دن لاہور میں قیام کیا کروں گا اور اس شہر کو چھوڑوں گا نہیں۔ عمران خان نے بتایا کہ اگرچہ یاسمین راشد بہت اچھی اور متحرک لیڈر ہیں لیکن ان کے طبی معاملات ہیں ، اس لیے حماد اظہر کو تحریک انصاف پنجاب کا صدر بنایا جارہا ہے۔عمران خان نے ایک بارپھرفوری انتخابات پرزوردیتےہوئے کہاکہ آزادانہ اورشفاف انتخابات سے ہی ملک کے تمام مسائل کاحل ہے،عمران خان نے ملکی معاشی صورتحال پرشدیدتشویش کااظہارکرتےہوئے کہاکہ موجودہ امپورٹڈ حکومت کے بس میں نہیں کہ وہ حالات کوسنبھال سکے۔
انتخابی اصلاحات ،معیشت اور فوج کے کردار پرمخالف سیاسی جماعتوں سے بات کرنے کو تیارہوں، عمران خان








