لاہور(نیوزڈیسک) ق لیگ کے 100ووٹ مستردہونے پرحمزہ شہباز تین ووٹوں کی برتری وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ۔ جمعہ کو صوبائی اسمبلی کاا اجلاس تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کی صدارت شروع ہوا ۔ اجلاس کے دوران پی پی 7 کہوٹہ سے مسلم لیگ ن کے منتخب ہونے والے راجہ صغیر نے ایوان میں حلف لیا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے پر ن لیگ کے چیف وہپ خلیل طاہر نے پی ٹی آئی کے نو منتخب اراکین اسمبلی زین قریشی اور شبیر گجر پر اعتراض کیا اور مطالبہ کیا کہ دونوں ارکان کو ایوان سے باہر نکالا جائے۔ن لیگی رہنما کا کہنا تھاکہ زین قریشی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا، پنجاب اسمبلی میں ووٹ نہیں ڈال سکتے ۔ شبیر گجر کا الیکشن کمیشن میں کیس چل رہا ہے، ووٹ نہیں ڈال سکتے۔اس اعتراض کے جواب میں پی ٹی آئی کے راجہ بشارت کا کہنا تھاکہ الیکشن کمیشن نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے لہٰذا شبیر گجر ووٹ کاسٹ کر سکتے ہیں۔ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ن لیگ کا اعتراض مسترد کر دیا اور رولنگ دی کہ دونوں ارکان ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ووٹنگ شروع ہوئی تو ایوان میں سب سے پہلا ووٹ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن صوبائی اسمبلی زین قریشی نے ڈالا۔ بعدازاں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لئے ووٹنگ کا عمل شروع ہوا،مسلم لیگ ق کے دس امیدواروں نے بھی اپنے ووٹ کاسٹ کئے ۔ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکرنے چودھری شجاعت حسین کا خط پڑھ کر سنایاجس میں انہوں نے پرویزالٰہی کے حق میں ق لیگ کے ارکان کے ووٹ تسلیم نہ کرنے کا کہاتھا جس پرڈپٹی سپیکرنے ق لیگ کے ارکان کے ووٹ مستردکردیئے جس پر حمزہ شہباز کوتین ووٹوں کی برتری حاصل ہوگئی۔
ق لیگ کے 100ووٹ مسترد، حمزہ شہبازتین ووٹوں کی برتری وزیراعلیٰ پنجاب منتخب







