لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار پرویز الہٰی سمیت پاکستان مسلم لیگ (ق) کے تمام 10 ووٹ مسترد کردیا جس کے بعد حمزہ شہباز تین ووٹوں کی برتری کی بدولت بدستور وزیراعلیٰ پنجاب رہیں گےجہاں مسلم لیگ (ن) کو 179 ووٹ پڑے جبکہ 10 ووٹ مسترد ہونے کے بعد پرویز الٰہی کو 176 ووٹ ملے۔
جمعہ کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے کی تاخیر سے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی زیرصدارت تلاوت کلام پاک اور ترجمے سے شروع ہوا، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے راولپنڈی سے منتخب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رکن اسمبلی راجا صغیر سے رکنیت کا حلف لیا۔اجلاس کے شروع میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن طاہر خلیل سندھو نے اعتراض کیا کہ حلف اور نوٹیفکیشن میں فرق ہوتا ہے، پی پی-167 سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منتخب رکن صوبائی اسمبلی شبیراحمد کے بارے میں لکھا گیا ہے نوٹیفکیشن کمیشن کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا، اگر اس کا حلف لیا گیا ہے تو وہ غیر قانونی ہے اور وہ ووٹ نہیں ڈال سکتے۔انہوں نے ایک اور اعتراض کیا کہ زین قریشی ملتان سے اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں اور صوبائی رکن بھی ہیں تاہم پی ٹی آئی کے راجا بشارت نے پی ٹی آئی ارکان کے حوالے سے اعتراض دور کیا، جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ پہلا ووٹ زین قریشی ڈالیں۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ 16 اپریل کو وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ ہوئی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز کامیاب ہوئے جبکہ پرویز الہیٰ کو کوئی ووٹ نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ ‘حمزہ شہباز کو 197 ووٹ ملے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 25 اراکین کا ووٹ شمار نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ حمزہ شہباز کے پاس اب 172 ووٹ ہیں اور کسی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تاہم آئین کے آرٹیکل 130 فور کے تحت دوبارہ ووٹنگ کے لیے اسمبلی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ووٹنگ کا عمل پہلے کی طرح ہوگا اور سیکریٹری اسمبلی ووٹنگ کا طریقہ کار بتائیں گے اور اس کے بعد سیکریٹری نے ووٹنگ کا طریقہ کار سمجھایا۔دوست مزاری نے کہا کہ پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز کی حمایت کرنے والے اراکین مخالف سمت پر چلے جائیں۔
ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ووٹوں کی گنتی کے بعد ایوان کو بتایا کہ مجھے چوہدری شجاعت کی طرف سے خط موصول ہوا ہے۔دوست محمد مزاری نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا خط پڑھتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے تمام اراکین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ووٹنگ 22 جولائی کو شیڈول ہے اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے تمام اراکین صوبائی اسمبلی کو احکامات دے رہا ہوں وہ حمزہ شہباز شریف کے حق میں ووٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ اس خط کی کاپی پارٹی کے تمام اراکین کو بھیجے گئے ہیں۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت جتنے بھی پاکستان مسلم لیگ(ق) کے جتنے بھی ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد ہوتےہیں اور 10 ووٹ ختم ہوگئے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہٰی کو 186 ملے تھے لیکن 10 ووٹ مسترد ہونے کے بعد ان کے 176 ووٹ رہ گئے جبکہ حمزہ شہباز کو 179 ووٹ ملے اور یوں انہیں 3 ووٹوں کی برتری حاصل رہی۔ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے رکن راجا بشارت نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ میں 63 اے کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ ووٹ کی ہدایت دینے کے لیے کس کو حق حاصل ہے۔ راجہ بشارت کے سوال پر ڈپٹی اسپیکر نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق پارٹی کے سربراہ کو حق حاصل ہے، اور اس پر راجا بشارت نے کہا کہ پارلیمانی لیڈر کو حق حاصل ہے اور آئینی شق پڑھ کر سنائی۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے سربراہ چوہدری ساجد ہیں اور حکم انہوں نے دینا تھا تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ عدالت کا حکم پڑھیں لیکن راجا بشارت نے کہا کہ کل مسلم لیگ(ق) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے فیصلہ کیا ووٹ چوہدری پرویز الہٰی کو دیا جائے گا۔سپیکر کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ اب آپ کے فیصلے کے مطابق امیدوار کی حیثیت ختم کر رہے ہیں اور چوہدری پرویز الہٰی خود اپنے آپ کو ووٹ نہیں دے سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کو اختیار حاصل نہیں ہے تاہم ڈپٹی اسپیکر نے کہا اس خط کے مطابق میں نے چوہدری شجاعت سے فون پر پوچھا تو انہوں نے 3 مرتبہ کہا صحیح ہے اور انہوں نے پارٹی کے سربراہ کے طور پر یہ خط لکھا ہے۔ڈپٹی اسپیکر نے اس کے بعد اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔
یاد رہے کہ 17مئی کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی تھی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا تھا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منحرف رکن کا دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے، جبکہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔
ق لیگ کے ووٹ مسترد، حمزہ شہباز پنجاب کے وزیراعلیٰ برقرار








