بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئینی وقانونی ماہرین کاڈپٹی سپیکرپنجاب اسمبلی کی رولنگ پرملے جلے ردعمل کا اظہار

اسلام آباد(نیوزڈیسک )آئینی وقانونی ماہرین نے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں مسلم لیگ (ق) کے دس ووٹ مستردکئے جانے سے متعلق ڈپٹی سپیکرپنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صدرسپریم کورٹ باراحسن بھون نے کہاہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی ،ہم نے پہلے بھی کہاتھا کہ اس وقت کا فیصلہ درست نہیں ،سپریم کورٹ کو کسی ایک شخص کے فائدے کے بجائے آئین کے تحت فیصلہ کرناچاہیے تھا ۔
ماہر قانون علی ظفر نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو غیر قانونی وغیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میری نظر میں غیر قانونی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی اسپیکرنے آئین کے مطابق غیر قانونی رولنگ دی ہے۔ آئین کے مطابق پارلیمانی پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کس کو ووٹ دینا ہے اور پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا کہ پرویز الہٰی کوووٹ دینا ہے۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کا انحراف ہو تو کوئی رکن ڈی سیٹ ہوتا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے بالکل غیر آئینی وغیر قانونی فیصلہ کیا ہے۔ جس کو سن کر پریشان ہوگیا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ واضح کہہ چکی ہے کہ آئین سے متصادم فیصلے کو غلط قرار دے گی۔ اس کیس میں بھی سپریم کورٹ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دے گی۔
ماہر قانون بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ غلط ہے۔ آرٹیکل 63 اے میں واضح ہے پارلیمنٹ میں پارلیمانی پارٹی کو دسترس ہے۔ فیصلہ پارلیمانی پارٹی کا ہی قبول ہوگا۔ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ نہ ماننے والے کیخلاف پارٹی سربراہ ای سی کو خط لکھ سکتے ہیں اور یہ پارٹی سربراہ کی صوابدید پر ہے کہ وہ کسی ممبر کے خلاف خط لکھیں یا نہ لکھیں۔
اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ آصف زرداری نے وہی کیا جو سیاستدان کرتے ہیں۔ وہ چوہدری شجاعت کے پاس گئے اور ووٹ مانگا لیکن چوہدری شجاعت کا پرویز الٰہی کیخلاف جانا میرے لیے حیران کن ہے۔ اس فیصلے سے چوہدری برادران کے خاندان میں دراڑ پڑجائے گی۔
ماہر قانون سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ پارلیمانی پارٹی فیصلوں کے بعد پارٹی سربراہ اراکین کو ووٹ سے نہیں روک سکتا۔ آرٹیکل 63 اے اس سلسلے میں بالکل واضح ہے۔ آئین کو بگاڑنا افسوسناک ہے، جو کچھ ہوا وہ احمقانہ عمل ہے۔

ماہر قانون صلاح الدین احمد نے کہاکہ آج کا ڈھونگ سپریم کورٹ کی آرٹیکل 63اے کی نامعقول تشریح کا براہ راست نتیجہ ہے،سپریم کورٹ کو اس وقت پارٹی سربراہ کی آمریت کی نظیر قائم کرنے سے خبردار کیا تھا۔