اسٹیٹ بینک آف پاکستان(State Bank Of Pakistan) کی دستاویزات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت کے ابتدائی 25 ماہ کے دوران وفاقی قرضوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے حکومتی مالیاتی انحصار مزید بڑھنے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
دستاویزات میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2024 سے مارچ 2026 تک کے عرصے میں وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ بڑھ کر 80 ہزار 524 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس دوران سب سے زیادہ اضافہ مقامی قرضوں میں ہوا۔ وفاقی حکومت کے اندرونی یا مقامی قرضوں میں 14 ہزار 891 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بیرونی قرضوں میں 824 ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا۔
مزیدپڑھیں:اسرائیل نے ایران کیخلاف عراق میں دو خفیہ اڈے قائم کیے، نیویارک ٹائمز کا بڑا انکشاف
ماہرینِ معیشت کے مطابق بڑھتے ہوئے قرضے حکومت کے مالیاتی دباؤ، بجٹ خسارے، درآمدی ادائیگیوں اور جاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے لیے گئے اقدامات کا نتیجہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قرضوں میں مسلسل اضافہ معیشت کے لیے طویل مدتی چیلنج بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی مہنگائی، شرح سود اور زرمبادلہ کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ بڑھانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور غیر ضروری اخراجات محدود کرنے جیسے اقدامات پر توجہ دینا ہوگی تاکہ مالیاتی استحکام حاصل کیا جا سکے۔









