لاہور(ممتازنیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈپٹی اسپیکرکوریکارڈ سمیت طلب کرلیا،عدالت نے اٹارنی جنرل ،ایڈووکیٹ جنرل کوبھی طلب کرلیا،سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کوبھی طلب کرلیا،
چیف جسٹس نے سماعت کےد وران ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے فیصلے میں ایساکچھ نہیں جوڈپٹی اسپیکرنے کہا،جہوری روایات یہی ہیں پارلیمانی پارٹی ہی کہتی ہے کہ کس کوووٹ دیناہے ،سپریم کورٹ نے سماعت 2بجے ملتوی کردی۔
ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کی رولنگ کےخلاف پی ٹی آئی اور ق لیگ کی درخواست پرچیف جسٹس سپریم کورٹ ،جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔کمرہ عدالت میں تحریک انصاف کےوکلابیرسٹر علی ظفر ،عامر سعید راں روسٹرم پرموجود ہیں جبکہ اسدعمر،فواد چوہدری،حسین الٰہی سمیت دیگرپی ٹی آئی اور ق لیگ کی قیادت عدالت میں موجود ہے۔
کیس کی سماعت کے موقع پر پولیس کی اضافی نفری سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر تعینات کردی گئی ہے، لاہور رجسٹری میں عام افراد کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔دوسری جانب تحریک انصاف کے وکیل فیصل چوہدری نے بذریعہ ویڈیو لنک سماعت کی درخواست بھی دائر کردی ہے، درخواست ڈپٹی رجسٹرارجوڈیشل کو تحریری طور پر جمع کرادی گئی ہے۔واضح رہے کہ رات گئے پرویزالٰہی کے وکیل عامرسعید ایڈووکیٹ نے ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کی رولنگ کےخلاف پٹیشن تیار کی تھیجس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آج وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کےلیےووٹنگ کرائی گئی چوہدری پرویزالٰہی نے186 ووٹ حاصل کئے
لیکن ڈپٹی اسپیکر نے غیرقانونی اورغیرآئینی طورپررولنگ دی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ ڈپٹی اسپیکر نے غیرقانونی غیرآئینی رولنگ دےکر10 ووٹ شمار نہیں کیے ڈپٹی اسپیکرکی رولنگ سپریم کورٹ کےفیصلےکی خلاف ورزی ہے رولنگ آئین کےآرٹیکل63اےکی بھی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت ڈپٹی اسپیکرپنجاب اسمبلی کے ووٹ پر رولنگ کالعدم قرار دے۔









