اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت مزید بڑھ گیا جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی(Sohail Afridi) نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر مبینہ طور پر دھرنے کے دوران حکومتی پیغام لے کر پہنچے تھے۔ اس دعوے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ابھی تک صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کے مطابق جب تک اہلِ خانہ کی جانب سے اطمینان کا اظہار نہیں کیا جاتا، کارکنوں میں بھی مکمل اطمینان پیدا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کے اندر جذباتی اور سیاسی دونوں سطحوں پر بے چینی موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرسٹر گوہر کے حوالے سے یہ امکان موجود ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر رابطہ ہوا ہو، تاہم ان کے مطابق ان سے براہِ راست کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ اس بیان میں انہوں نے واضح طور پر کسی تصدیق یا انکار سے گریز کیا، جس کے باعث صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی۔
اس بیان کے بعد سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک الزام یا تاثر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پارٹی کے اندرونی روابط اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خاص طور پر دھرنے کے دوران مبینہ رابطوں کی بات نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
دوسری جانب بیرسٹر گوہر کی جانب سے اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ پارٹی قیادت بھی تاحال اس بیان پر باضابطہ ردعمل دینے سے گریز کر رہی ہے۔ اس خاموشی نے سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
اس نوعیت کے بیانات اکثر اندرونی اختلافات یا مذاکراتی چینلز کے بارے میں قیاس آرائیوں کو بڑھا دیتے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ اس وقت بھی یہی تاثر پایا جا رہا ہے کہ معاملہ صرف ایک بیان تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات پارٹی سیاست اور حکومت کے ساتھ تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور واضح حقائق سامنے آنے تک اس پر مختلف آرا اور تشریحات سامنے آتی رہیں گی۔








