امریکی محکمہ شہریت و ہجرت USCIS نے ایک نئی امیگریشن پالیسی جاری کی ہے جس کے تحت امریکا میں عارضی ویزے پر مقیم غیر ملکی شہریوں کو گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے سے پہلے اپنے آبائی ملک واپس جا کر امریکی سفارت خانے کے ذریعے پراسیس مکمل کرنا ہوگا۔
برطانوی خبر رساں ادارے Reuters کے مطابق یہ فیصلہ ایک پالیسی میمو کے ذریعے سامنے آیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ امیگریشن افسران ہر کیس کا الگ الگ جائزہ لیں گے اور صرف انتہائی غیر معمولی حالات میں امریکا کے اندر رہتے ہوئے استثنا دیا جا سکے گا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق اس اقدام کا مقصد امیگریشن نظام کو اس کی اصل قانونی روح کے مطابق چلانا ہے تاکہ ممکنہ غلط استعمال اور نظامی خامیوں کو کم کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ادارے کے وسائل بھی بہتر انداز میں استعمال ہوں گے اور کیسز کے فیصلوں میں تیزی آئے گی۔
نئی ہدایت کے مطابق عارضی ویزا رکھنے والے افراد جیسے طلبہ، عارضی ملازمین، سیاح اور دیگر غیر ملکی شہری اگر مستقل رہائش (گرین کارڈ) کے خواہشمند ہوں تو انہیں اپنے ملک واپس جا کر وہاں سے درخواست دینا ہوگی۔ تاہم اس اصول میں کچھ محدود استثنا بھی شامل ہوگا جنہیں قومی مفاد یا غیر معمولی حالات کے تحت دیکھا جائے گا۔
یہ پالیسی کئی دہائیوں سے جاری پرانے نظام میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اب تک امریکا میں قانونی حیثیت رکھنے والے افراد، بشمول امریکی شہریوں کے شریک حیات، طلبہ اور ورک ویزا ہولڈرز، ملک کے اندر رہتے ہوئے ہی اسٹیٹس تبدیل کرنے کی درخواست دے سکتے تھے۔
مزیدپڑھیں:امریکا میں ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی پر غور، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
نئے فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ایسے افراد متاثر ہو سکتے ہیں جو پہلے ہی مشکل حالات سے گزر رہے ہیں، جن میں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین، تشدد سے بچ کر آنے والے افراد اور کم عمر تارکین وطن بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کئی ممالک میں امریکی سفارت خانوں میں ویزا پراسیسنگ پہلے ہی سست روی کا شکار ہے، اور بعض جگہ انٹرویو کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، جس سے خاندانوں کے الگ ہونے اور طویل غیر یقینی صورتحال کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
امیگریشن ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے قانونی امیگریشن کے عمل میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہوں گی، اور یہ واضح نہیں کہ آیا اس کا اطلاق پہلے سے زیرِ التوا درخواستوں پر بھی ہوگا یا نہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کچھ مخصوص کیسز میں، جہاں معاشی یا قومی مفاد شامل ہوگا، وہاں درخواست دہندگان کو امریکا میں رہتے ہوئے ہی ریلیف دیا جا سکے گا۔
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں امیگریشن قوانین پہلے ہی سخت کیے جا رہے ہیں اور ویزا پالیسیوں میں مسلسل تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔









