بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا میں ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی پر غور، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی حملوں پر سنجیدگی سے غور کیے جانے کی اطلاعات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

امریکی میڈیا اداروں بشمول CBS News اور Axios کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر Donald Trump نے ملکی صورتحال اور ہنگامی امور کے باعث اپنی خاندانی تقریب میں شرکت بھی منسوخ کر دی ہے اور وہ وائٹ ہاؤس میں موجود رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں ان کی واشنگٹن میں موجودگی ضروری ہے، جس کے بعد ان کے دیگر مصروف پروگرام بھی عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔

ادھر امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس اداروں میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔ اعلیٰ حکام نے ہائی الرٹ کے باعث اپنی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں جبکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔

اگرچہ صورتحال انتہائی حساس بتائی جا رہی ہے، تاہم حکام کے مطابق ایران پر کسی بھی حتمی فوجی کارروائی کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا اور پسِ پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔

مزیدپڑھیں:چین میں کوئلے کی کان میں خوفناک دھماکا، 82 افراد ہلاک

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی کے مطابق صدر نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران معاہدے میں ناکام رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن معاہدے کیلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں تو صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے، جس پر عالمی برادری کی نظریں بھی مرکوز ہیں۔