بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دورۂ بھارت، خطے کی سیاست اور توانائی بحران پر اہم گفتگو متوقع

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے بھارت کے چار روزہ دورے کا آغاز کر دیا ہے، جہاں ان کی ملاقات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ قیادت سے ہوگی۔ اس موقع پر مودی کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی گئی ہے۔

دورے کا بنیادی مقصد امریکا اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدہ تجارتی معاملات کے بعد تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور دفاعی، معاشی و اسٹریٹجک تعاون کو وسعت دینا بتایا جا رہا ہے۔

واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ مہینوں میں روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے تھے۔ امریکا چاہتا ہے کہ بھارت روسی توانائی پر انحصار کم کرے، تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال نے بھارت کی توانائی حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں؛ایران امریکا مذاکرات: معاہدہ قریب بھی ہے اور دور بھی، اسماعیل بقائی

امریکی حکام کے مطابق روبیو کے دورے میں توانائی کے تحفظ، خطے کی سلامتی، تجارت اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کے نئے ونگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اور بھارت کے تعلقات ہند-بحرالکاہل خطے میں مشترکہ وژن کی بنیاد ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے تجارتی اور دفاعی تعاون مزید گہرا کرنے اور جدید و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

دورے کے دوران “کواڈ” اتحاد کا اجلاس بھی اہم توجہ کا مرکز ہوگا، جس میں امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ یہ اتحاد خطے میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کے تناظر میں اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں؛ایران جنگ کے اثرات: 27 ممالک نے عالمی بینک سے ہنگامی مدد طلب کرلی

ادھر ایران سے متعلق جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے مارکو روبیو نے کہا ہے کہ مذاکرات میں “کچھ پیش رفت” ہوئی ہے اور آنے والے دنوں میں کسی مثبت اعلان کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے ایران پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی گزرگاہ کو کھلا رکھا جائے، جبکہ یورینیم افزودگی کے معاملے پر بھی امریکا اپنے مطالبات پر قائم ہے۔

امریکا اور بھارت کے تعلقات پر پاکستان اور امریکا کے حالیہ قریبی رابطوں کا بھی اثر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان ایران امریکا مذاکرات میں ممکنہ ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔

مارکو روبیو اپنے دورے کے دوران کولکتہ، آگرہ اور جے پور کا بھی دورہ کریں گے، جبکہ کولکتہ میں انہوں نے مدر ٹریسا کے مزار اور فلاحی ادارے کے ہیڈکوارٹرز بھی گئے۔