بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکا اور ایران 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب

امریکا (United States)اور ایران (Iran)کے درمیان ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

اس مجوزہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو محدود پیمانے پر تیل کی آزادانہ فروخت کی اجازت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر ایجنسی اے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں فریقین ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کرنے کی تیاری میں ہیں، جس کی ابتدائی مدت 60 دن رکھی جائے گی اور باہمی رضامندی سے اس میں توسیع بھی ممکن ہوگی۔

مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھنے اور وہاں موجود بارودی سرنگیں ہٹانے کا پابند ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد عالمی بحری تجارت کی روانی بحال کرنا اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا بتایا جا رہا ہے۔

اس کے بدلے میں امریکا ایران پر عائد کچھ اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرے گا، جن میں بندرگاہوں سے متعلق پابندیاں اور تیل کی برآمدات پر جزوی ریلیف شامل ہو سکتا ہے۔ اس سے ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کا موقع ملے گا جبکہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بھی استحکام متوقع ہے۔

مزیدپڑھیں:وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، حملہ آور سیکیورٹی اہلکاروں کی کارروائی میں ہلاک

امریکی حکام کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی اصول “کارکردگی کے بدلے ریلیف” ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے سیکیورٹی اور بحری اقدامات پر عمل کرے گا، اسی رفتار سے پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران فوری طور پر منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے مکمل خاتمے کا خواہاں تھا، تاہم امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات مرحلہ وار اور شرائط کے ساتھ ہوں گے۔

مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق ایران کو یہ یقین دہانی بھی کرانا ہوگی کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کو محدود کرنے اور حساس مواد کے ذخائر ختم کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے ثالث ممالک کے ذریعے کچھ ابتدائی یقین دہانیاں کرائی ہیں کہ وہ محدود جوہری رعایتوں پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس عبوری دور میں خطے میں موجود امریکی افواج اپنی جگہ برقرار رہیں گی، اور کسی حتمی معاہدے کے بعد ہی ان کے مستقبل پر فیصلہ ہوگا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے میں خطے کے دیگر تنازعات، بشمول لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی کے نکات بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔

مزید یہ کہ بعض رپورٹس کے مطابق پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اور اس کی اعلیٰ سطحی قیادت تہران اور دیگر دارالحکومتوں میں سفارتی رابطے کر رہی ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تمام امور طے پا گئے تو اس معاہدے کا باضابطہ اعلان آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں کیا جا سکتا ہے۔