بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سنگاپور کی معیشت نے توقعات سے زیادہ ترقی کی، مگر ایران جنگ کے اثرات پر تشویش برقرار

سنگاپور کی معیشت (Singapore’s economy) نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں توقعات سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق چپس اور ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب قرار دی جا رہی ہے۔

سنگاپور وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو حکومتی ابتدائی تخمینے 4.6 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

حکام کے مطابق یہ ترقی خاص طور پر ہول سیل ٹریڈ، مینوفیکچرنگ، فنانس اور انشورنس کے شعبوں میں مضبوط سرگرمیوں کے باعث ممکن ہوئی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ AI ٹیکنالوجی سے وابستہ مشینری، الیکٹرانکس اور پریزیشن انجینئرنگ کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھیں؛سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، فی تولہ 4,600 روپے مہنگا

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ نے سنگاپور کی سیمی کنڈکٹر صنعت کو نئی رفتار دی ہے، کیونکہ ملک دنیا کی تقریباً 10 فیصد سیمی کنڈکٹر پیداوار اور 20 فیصد چپ ساز آلات کی تیاری میں حصہ رکھتا ہے۔

تاہم حکومت نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایران سے متعلق جاری تنازع عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق تیل، توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار حوصلہ افزا ضرور ہیں، مگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے مکمل اثرات شاید آئندہ سہ ماہیوں میں زیادہ واضح ہوں گے۔

اقوام متحدہ بھی عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی کم کر چکی ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی سپلائی چین اور تجارت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

اس کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ AI اور ٹیکنالوجی سے جڑی سرمایہ کاری سنگاپور کی معیشت کو سہارا دیتی رہے گی اور یہی شعبہ آنے والے برسوں میں ملک کی ترقی کا بنیادی محرک بن سکتا ہے۔