پاکستان ریلوے جدت اور خود انحصاری کے میدان میں ایک قدم اور آگے۔لوکوموٹیو فیکٹری (locomotive factory)رسالپور میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کا عملی مظاہرہ کیا گیا، رسالپور میں مختلف اقسام کے 102 لوکوموٹیو جزوی طور پر تیار کرلئے گئے۔
رسالپور فیکٹری سالانہ 25 لوکوموٹیو تیار کرنے کی صلاحیت کی حامل ہے، رسالپور فیکٹری ریلوے کے لیے16 لوکوموٹیو کی جدید کاری میں مصروف ہے۔
کیرج فیکٹری اسلام آباد میں تیز رفتار مسافر کوچز کی تیاری کا بھی آغاز ہوگیا، ریلوے کیرج فیکٹری اسلام آباد سالانہ 120 مسافر کوچز تیار کرنے کی صلاحیت رکتھا ہے۔ مغل پورہ لاہور میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کی فریٹ ویگنز کی تیاری جاری ہے۔
استعداد بڑھانے کے لیے 800 سے زیادہ گنجائش والی مال بردار ویگنز کی تیاری کا منصوبہ ہے،115 سے زیادہ گنجائش والی ویگنز کی رسالپور فیکٹری میں تیاری کا عمل جاری ہے۔
ریلوے کی 3 مسافر ٹرینوں کی آوٹ سورسنگ پہلے ہی مکمل کی جاچکی، ریلوے کا مزید 15 ٹرینوں کی آوٹ سورسنگ کا فیصلہ ہوچکا ہے، اگلے ماہ ٹرینوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کیلئے نیلامی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:ایران، امریکا معاہدہ امید، خام تیل عالمی منڈی میں 95 ڈالر فی بیرل پر فروخت
وزیر ریلوے نے اعتراف کیا کہ پاکستان ریلوے 45 سال سے خسارے کا شکار ہے، ٹرینوں کی آوٹ سورسنگ کے زریعے سالانہ 24.7 ارب حاصل ہونے کا تخمینہ ہے، 2024،25 میں 93 ارب سے زائد کی ریکارڈ آمدنی حاصل کی۔









