اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاناما پیپرز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بڑے فراڈ اور ٹیکس چوریوں کو بے نقاب کرنے والے شخص نے کہا ہے کہ روس اسے قتل کرنا چاہتا تھا۔
میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن خبر رساں ادارے سے جان ڈو کے فرضی نام سے بات کرتے ہوئے پاناما پیپرز افشا کرنے والے مرکزی کردار نے کہا ہے کہ اس کے پاس اعلیٰ روسی حکام اور یوکرین جنگ میں انہیں مالی امداد فراہم کرنے والے ان کے اتحادیوں کی مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت موجود ہیں۔
پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جان ڈو نے کہا کہ روسی حکومت اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتی ہے اس لیے اب بھی زندگی کے حوالے سے خطرات لاحق ہیں، ہر وقت موت کے خوف میں جیتا ہوں۔
جان ڈو نے کہا کہ امریکا کے لیے ولادیمیر پیوٹن، اور اس کی دوست بے نامی کمپنیاں، ہٹلر کے مقابلے میں بہت بڑا خطرہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بے نامی کمپنیاں روسی فوج کو فنڈنگ کرتی ہیں تاکہ وہ معصوم شہریوں کو مار سکیں، آج کل یوکرین کی مثال آپ کے سامنے ہے جہاں پیوٹن کے فوجی شاپنگ سینٹرز پر میزائل برسا رہے ہیں۔
مالٹا اور سلواکیا میں تحقیقاتی صحافیوں کے قتل کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے جان ڈو کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کا گمنامی سے باہر آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، کیوں کہ ان کی زندگی کو اب بھی سنجیدہ نوعیت کے خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاناما پیپرز انکشافات میں کئی بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کے مالیاتی ریکارڈ بھی ظاہر ہوئے تھے جن میں سے کچھ تنظیموں کے حکومتوں سے تعلقات کا انکشاف بھی ہوا تھا، اس لیے یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ میرا اپنی شناخت ظاہر کرنا خود اپنے لیے کتنا محفوظ ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ انٹرنیشنل کنسورشم آف انویسٹیگیشن جرنلسٹس (ICIJ) کی جانب سے پاناما پیپرز کے نام سے مختلف مالیاتی دستاویزات ظاہر کی گئی تھی، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور آئس لینڈ کے وزیر اعظم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا جبکہ کئی ممالک میں رہنماؤں پرپاناما پیپر کی بنیاد پر مقدمات بنائے گئے۔
پاناما پیپرز افشا کرنے والے مرکزی کردار کا انکشاف، روس اسے قتل کرنا چاہتا تھا








