بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) کی سابق چیف پراسیکیوٹر فاتو بنسودا نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطین سے متعلق تحقیقات کو روکنے کے لیے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ یوسی کوہن نے ان پر شدید دباؤ ڈالا اور انہیں ذاتی طور پر دھمکانے کی کوشش کی۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں فاتو بنسودا نے بتایا کہ ان کی یوسی کوہن کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ہوئیں، جن کا مقصد فلسطین میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق آئی سی سی کی تحقیقات کو روکنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ سب سے اہم ملاقات نیویارک کے ایک ہوٹل میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہوئی، جہاں وہ ایک سربراہِ مملکت سے ملاقات کر رہی تھیں۔ بنسودا کے مطابق اچانک یوسی کوہن وہاں نمودار ہوئے اور فلسطین سے متعلق جاری تحقیقات پر گفتگو شروع کردی۔
سابق پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ کوہن کا پیغام بالکل واضح تھا کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ فلسطین کی صورتحال سے متعلق تحقیقات آگے بڑھیں۔ ان کے بقول موساد چیف نے انہیں تحقیقات روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس معاملے کو مزید آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
فاتو بنسودا نے بتایا کہ انہوں نے دوٹوک جواب دیا کہ وہ صرف اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں اور کسی مخصوص ملک یا شخصیت کو نشانہ نہیں بنا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے عہدے کا حلف بغیر کسی خوف یا جانبداری کے انصاف فراہم کرنے کے لیے اٹھایا ہے اور متاثرین کو انصاف دلانا ان کی ذمہ داری ہے۔
مزیدپڑھیں:بات چیت جاری، تاحال امریکا کیساتھ معاہدہ طے نہیں پایا؛ ایرانی ترجمان
انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدالت سیاسی دباؤ کے سامنے جھک جائے تو متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کے مطابق وہ اپنے منصب کے تقاضوں سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔
بنسودا نے انکشاف کیا کہ ابتدائی طور پر یوسی کوہن نے دوستانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم جب یہ حکمت عملی کامیاب نہ ہوئی تو معاملات دباؤ اور دھمکیوں کی جانب بڑھ گئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان رابطوں کو اپنے اور اپنے خاندان کے لیے خطرہ سمجھتی تھیں تو انہوں نے جواب دیا: “بالکل۔”
سابق چیف پراسیکیوٹر نے ایک اور حیران کن واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ان کی رہائش گاہ کے باہر نامعلوم افراد نے 500 ڈالر نقد رقم پر مشتمل ایک لفافہ چھوڑا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد انہیں یہ باور کرانا تھا کہ ان کے نجی پتے اور ذاتی زندگی تک رسائی حاصل کی جاچکی ہے اور وہ مسلسل نگرانی میں ہیں۔
فاتو بنسودا نے 2012 سے 2021 تک آئی سی سی کی چیف پراسیکیوٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے دور میں عدالت کو متعدد عالمی طاقتوں کے ساتھ غیرمعمولی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 2020 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان سمیت آئی سی سی کے دیگر اعلیٰ حکام پر سخت پابندیاں عائد کردی تھیں۔ ان پابندیوں کے باعث امریکہ میں موجود اثاثے منجمد ہوگئے جبکہ مالی لین دین بھی شدید متاثر ہوا۔
بنسودا کے مطابق پابندیوں کے اثرات ان کی ذاتی زندگی تک پہنچے۔ ان کا رہائشی قرض متاثر ہوا جبکہ گیمبیا میں ان کے بیٹے کا بینک اکاؤنٹ بھی بند کردیا گیا تھا، جس سے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر انصاف کو سیاسی مفادات کی نذر کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کے اس دور میں انہیں ہالینڈ کی حکومت کی جانب سے بھی خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہوئی، حالانکہ آئی سی سی کا صدر دفتر دی ہیگ میں واقع ہے۔
فاتو بنسودا کے یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب فلسطین سے متعلق بین الاقوامی تحقیقات اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عالمی سطح پر شدید بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ان کے بیانات نے ایک بار پھر بین الاقوامی عدالتی نظام پر سیاسی دباؤ اور خفیہ مداخلت کے الزامات کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔









