بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے کمپنیاں قیمتی معلومات کھو رہی ہیں: ستیہ نڈیلا کا انتباہ

مائیکرو سافٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ستیہ نڈیلا نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والی کمپنیاں درحقیقت 2 بار قیمت ادا کر رہی ہیں، ایک بار رقم کی صورت میں اور دوسری بار اپنی قیمتی ادارہ جاتی معلومات اے آئی کو فراہم کر کے۔

اپنے حالیہ بلاگ میں ستیہ نڈیلا نے کہا کہ جتنا بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو معلومات فراہم کرتی ہیں، اتنا ہی زیادہ ان کی اندرونی معلومات اور مہارت ان نظاموں تک منتقل ہوتی جاتی ہے۔

انہوں نے نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات کینتھ ایرو کے ’معلوماتی تضاد‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں ایک نیا ’reverse information paradox‘ پیدا ہو گیا ہے جہاں خریدار کو ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی معلومات شیئر کرنا پڑتی ہیں۔

ستیہ نڈیلا کے مطابق وقت کے ساتھ یہ عدم توازن بڑھتا جاتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنیاں صارفین کے بارے میں زیادہ جان لیتی ہیں جبکہ صارفین کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی معلومات سے کیا سیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو صرف اپنے ڈیٹا ہی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران پیدا ہونے والے علم پر بھی مکمل کنٹرول رکھنا چاہیے۔

ملازمین کے سوالات، اصلاحات، فیڈبیک اور تیار کردہ ورک فلوز وقت کے ساتھ ایک کمپنی کا قیمتی اثاثہ اور مسابقتی برتری بن جاتے ہیں۔

ستیہ نڈیلا نے زور دیا ہے کہ اداروں کو اپنے ’سیکھنے کے عمل‘ کی ملکیت برقرار رکھنی چاہیے جس میں سوالات، فیڈبیک، جائزے اور ادارہ جاتی یادداشت شامل ہے۔

ان کے مطابق کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت سے فائدہ تو حاصل کرنا چاہیے لیکن اس عمل میں اپنی قیمتی معلومات دوسروں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔

مائیکرو سافٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے متنازع اسرائیلی نام ڈیجیٹل نقشوں سے ہٹا دیے

ستیہ نڈیلا نے کمپنیوں کو کسی ایک مصنوعی ذہانت فراہم کنندہ پر انحصار سے بچنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نظام بنائے جائیں جو مختلف ماڈلز کے درمیان باآسانی تبدیلی کی صلاحیت رکھتے ہوں جبکہ ڈیٹا، جائزوں اور حسبِ ضرورت ورک فلوز کی ملکیت کمپنی کے پاس ہی رہے۔

مزید پڑھیں:درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کیلئے ریفائنریز کی اہم تجویز منظور

ان کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی کامیابی صرف بڑے ماڈلز بنانے پر نہیں بلکہ ایسے کھلے اور جامع نظام پر منحصر ہو گی جہاں ادارے اپنی ٹیکنالوجی، معلومات اور پیدا ہونے والے معلوماتی ڈیٹا پر مکمل اختیار برقرار رکھ سکیں گے۔