طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہونے والی چالیس سالہ طویل ترین تحقیق نے آلو کے شوقین(potatos lovers) افراد کے لیے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔
تحقیق کے مطابق آلو کا باقاعدگی سے استعمال اس صورت میں ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بیس فیصد تک بڑھا دیتا ہے جب اسے فرینچ فرائز کی شکل میں ڈیپ فرائی کر کے کھایا جائے۔
اس کے برعکس ابلے ہوئے، میشڈ یا بیک کیے ہوئے آلو کھانے سے شوگر کے خطرے میں کوئی اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گرم تیل میں فرائی کرنے سے آلو میں غیر صحت بخش چکنائی اور کیلوریز شامل ہو جاتی ہیں جو انسولین کے نظام کو بری طرح متاثر کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر غذا میں تھوڑی سی تبدیلی کی جائے تو اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر اگر فرینچ فرائز کی جگہ دلیہ یا براؤن چاول جیسی سالم اناج والی غذائیں استعمال کی جائیں تو شوگر کا خطرہ انیس فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
جبکہ ابلے ہوئے آلو کی جگہ سالم اناج کھانے سے یہ خطرہ چار فیصد تک کم ہوتا ہے۔ تاہم ابلے آلو کی جگہ سفید چاول کا استعمال خطرے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
مزید پڑھیں:اے آئی صرف نوکری ہی نہیں، اور بھی بہت کچھ چھین سکتی ہے
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بازار کے چپس سے مکمل پرہیز کیا جائے اور اگر گھر میں آلو بنانا ہو تو اسے چھلکے سمیت ابال کر یا ہلکے تیل میں بیک کر کے کھایا جائے تاکہ صحت برقرار رہے۔









