بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فیفا ورلڈ کپ 2026: فرانس فیورٹ، برازیل کے لیے خطرے کی گھنٹی؟ ماہرین کی دلچسپ پیشگوئی

فیفا (FIFA) ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور دنیا بھر کے فٹبال شائقین کی نظریں اس میگا ایونٹ پر جمی ہوئی ہیں۔ ایسے میں ایک بین الاقوامی سروے نے ٹورنامنٹ کے ممکنہ فاتح اور مایوس کن کارکردگی دکھانے والی ٹیموں کے بارے میں دلچسپ پیشگوئیاں سامنے رکھ دی ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے سروے میں دنیا بھر سے 160 ماہرین اقتصادیات نے شرکت کی۔ سروے کے نتائج کے مطابق فرانس کو ورلڈ کپ جیتنے کا سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا گیا ہے، جبکہ پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل کے بارے میں توقعات زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

پیشگوئی کے مطابق فرانس کو 35 فیصد ووٹ حاصل ہوئے، جب کہ اسپین 31 فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو یورپی ٹیمیں ایک بار پھر عالمی فٹبال پر اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

فرانس کے ہیڈ کوچ ڈیدیئر ڈیشامپس کے لیے بھی یہ کامیابی تاریخی اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے۔ وہ ورلڈ کپ دو مرتبہ جیتنے والے پہلے کوچ بن سکتے ہیں۔ ڈیشامپس 1998 میں فرانس کی فاتح ٹیم کا بطور کھلاڑی بھی حصہ رہ چکے ہیں۔

مزیدپڑھیں؛چاچا کرکٹ کی پاکستانی کھلاڑیوں کو لسی پلانے والی یادگار ویڈیو وائرل

سروے میں ارجنٹائن، پرتگال اور انگلینڈ کو بھی ٹاپ پانچ مضبوط دعویداروں میں شامل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب فرانس کے اسٹار فارورڈ کائلان ایمباپے کو نہ صرف ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی بلکہ سب سے زیادہ گول کرنے والا کھلاڑی بننے کا بھی مضبوط امیدوار قرار دیا گیا، جبکہ انگلینڈ کے ہیری کین معمولی فرق سے ان کے پیچھے رہے۔

برازیل کے لیے سروے کے نتائج کچھ زیادہ خوش آئند نہیں رہے۔ تقریباً ایک تہائی ماہرین نے رائے دی کہ برازیل ٹورنامنٹ کی سب سے مایوس کن ٹیم ثابت ہو سکتی ہے، جو فٹبال کی اس روایتی طاقت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

اس کے برعکس ناروے، جاپان اور چند دیگر ٹیموں کو ایسے ممالک میں شمار کیا گیا ہے جو ٹورنامنٹ میں غیر متوقع اور حیران کن نتائج دے سکتی ہیں۔

سروے میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ 73 فیصد ماہرین نے اپنی پیشگوئیاں ذاتی اندازوں اور وجدان کی بنیاد پر کیں، جبکہ صرف 20 فیصد نے اعداد و شمار اور تجزیاتی ماڈلز پر انحصار کیا۔

ادھر منتظمین کو ٹکٹوں، رہائش اور سفری اخراجات میں اضافے جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں مشترکہ طور پر منعقد ہونے والا یہ ورلڈ کپ شائقین کے لیے تاریخ کے مہنگے ترین عالمی کپوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔