بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مزاحمتی محور کے کسی رکن پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا، ایران کا واضح پیغام

ایران (Iran) کی مصلحتی تشخیص کونسل کے سربراہ آیت اللہ صادق آملی لاریجانی نے کہا ہے کہ لبنان کے دفاع میں اسرائیل کے خلاف ایران کی حالیہ کارروائیاں محض فوجی ردعمل نہیں بلکہ ملک کی نئی دفاعی حکمت عملی کا عملی اظہار ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق آملی لاریجانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایک واضح پیغام دینا تھا کہ اگر ’’مزاحمتی محور‘‘ کے کسی بھی رکن کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ وسیع تر دائرے میں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی نظر میں خطے میں جاری کشیدگی اب کسی ایک ملک یا ایک محاذ تک محدود نہیں رہی۔ اسی لیے مزاحمتی اتحاد کے کسی بھی رکن کے خلاف کارروائی کو پورے اتحاد کے خلاف اقدام تصور کیا جائے گا اور اس کا مشترکہ ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

آملی لاریجانی کا کہنا تھا کہ تہران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے، حساس تنصیبات یا قومی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کا جواب سخت، جامع اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی ہو۔

مزید پڑھیں؛گلگت بلتستان کے انتخابات میں شفافیت نہیں تھی، نتائج پر سوالات موجود ہیں: راجہ ناصر عباس

انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ ردعمل کا دائرہ ان تمام فریقوں تک بھی پھیل سکتا ہے جو ایران کے خلاف کسی محاذ آرائی یا کارروائی کی حمایت کریں گے۔

ایرانی عہدیدار کے مطابق ملک نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھ دیا ہے، جہاں صرف خطرات کے ظاہر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے فعال اقدامات اور پیشگی طاقت کے مظاہرے کے ذریعے قومی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔

دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنے علاقائی اتحادیوں، خصوصاً لبنان، فلسطین، عراق اور دیگر مزاحمتی گروہوں کے تحفظ کو اپنی قومی سلامتی کی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس مؤقف سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔