بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گرمیوں میں رات بھر بیڈ روم ٹھنڈا رکھنے کے 7 آسان طریقے

گرمیوں کے موسم(weather) میں رات کو پُرسکون نیند حاصل کرنا بہت سے لوگوں کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیادہ گرمی محسوس کرتے ہیں۔

ماہرینِ ایچ وی اے سی (ہیٹنگ، وینٹیلیشن اور ایئر کنڈیشننگ) کے مطابق چند آسان اقدامات اپنا کر بیڈ روم کو رات بھر نسبتاً ٹھنڈا اور آرام دہ رکھا جا سکتا ہے۔

غیر ضروری الیکٹرانک آلات بند کریں

ماہرین کا کہنا ہے کہ کمرے میں موجود کئی الیکٹرانک آلات مسلسل حرارت پیدا کرتے رہتے ہیں۔ بڑے ٹی وی، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر مانیٹرز اور حتیٰ کہ موبائل چارجرز بھی استعمال نہ ہونے کے باوجود بجلی کھینچتے ہیں اور معمولی حرارت خارج کرتے ہیں۔

اگر ایک ہی کمرے میں کئی الیکٹرانک ڈیوائسز موجود ہوں تو مجموعی طور پر درجہ حرارت میں اضافہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے سونے سے قبل غیر ضروری آلات بند یا ان پلگ کر دینا بہتر ہے۔

کھڑکیوں کا درست استعمال کریں

گرمی کے دنوں میں ہر وقت کھڑکیاں کھلی رکھنا فائدہ مند نہیں ہوتا۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دن کے وقت کھڑکیاں بند رکھی جائیں جبکہ رات کے وقت جب باہر کا درجہ حرارت کم ہو جائے تو انہیں کھولا جائے۔

اگر گھر کے دو مخالف سمتوں میں کھڑکیاں موجود ہوں تو انہیں کھولنے سے کراس وینٹیلیشن پیدا ہوتی ہے، جس سے ٹھنڈی ہوا کا گزر بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کھڑکیوں میں موجود دراڑوں یا لیکیج کو بھی بند کرنا ضروری ہے تاکہ گرم ہوا اندر داخل نہ ہو سکے۔

بلیک آؤٹ پردے استعمال کریں

براہِ راست دھوپ والے کمروں میں بلیک آؤٹ پردے گرمی کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہ پردے سورج کی روشنی اور حرارت کو کمرے میں داخل ہونے سے روکتے ہیں جس سے دیواریں، فرش اور فرنیچر کم گرم ہوتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:جنگ بندی مسودے میں لبنان سمیت تمام علاقوں کو شامل کیا جائے گا، امیر سعید ایروانی

ماہرین کے مطابق ہلکے رنگ، خصوصاً سفید رنگ کے بلیک آؤٹ پردے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں کیونکہ یہ روشنی کو منعکس کرتے ہیں، جبکہ گہرے رنگ کے پردے حرارت جذب کر کے کمرے کو مزید گرم کر سکتے ہیں۔

ہوا کی روانی بہتر بنائیں

کمرے میں ہوا کی مناسب گردش درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر گھر کے وینٹیلیشن سسٹم میں واپسی والی ہوا کے راستے محدود ہوں تو کمرے کا دروازہ کھلا رکھنا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر استعمال شدہ کمروں کے اے سی وینٹس بند کرنے سے دوسرے کمروں میں زیادہ ٹھنڈی ہوا نہیں پہنچتی بلکہ بعض اوقات پورے نظام کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

پنکھوں کا درست استعمال

پنکھے دراصل ہوا کو ٹھنڈا نہیں کرتے بلکہ جسم کو ٹھنڈک کا احساس دلاتے ہیں۔ اگر کمرے میں دو کھڑکیاں موجود ہوں تو ایک کھڑکی کے سامنے پنکھا باہر کی جانب رکھیں تاکہ گرم ہوا باہر نکلے جبکہ دوسری کھڑکی سے نسبتاً ٹھنڈی ہوا اندر آئے۔

اگر سیلنگ فین استعمال کر رہے ہیں تو گرمیوں میں اس کی گردش گھڑی کی سوئیوں کے مخالف سمت میں ہونی چاہیے، جس سے نیچے کی طرف ہوا کا بہاؤ پیدا ہوتا ہے اور ٹھنڈک کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

نمی کم کریں

زیادہ نمی والا ماحول گرمی کو مزید شدید محسوس کرواتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کمرے میں نمی کم ہو جائے تو درجہ حرارت وہی رہنے کے باوجود ماحول زیادہ آرام دہ محسوس ہوتا ہے۔

اس مقصد کے لیے لیکیج درست کرنا، ایگزاسٹ فین استعمال کرنا اور جہاں ممکن ہو ایئر کنڈیشنر چلانا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

بستر کی جگہ تبدیل کریں

ماہرین کے مطابق ایک سادہ مگر مؤثر طریقہ یہ ہے کہ بستر ایسی دیوار سے دور رکھا جائے جس پر دوپہر کے وقت براہِ راست دھوپ پڑتی ہو۔

دھوپ سے گرم ہونے والی دیوار دن بھر حرارت جذب کرتی ہے اور رات کے وقت آہستہ آہستہ خارج کرتی رہتی ہے۔ ایسے میں دیوار کے ساتھ سونے والا شخص زیادہ گرمی محسوس کر سکتا ہے۔

نتیجہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ بیڈ روم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہمیشہ مہنگے آلات یا اضافی اخراجات ضروری نہیں ہوتے۔ غیر ضروری الیکٹرانکس بند کرنا، مناسب پردے لگانا، ہوا کی بہتر گردش کو یقینی بنانا اور بستر کی درست جگہ کا انتخاب جیسے چھوٹے اقدامات بھی گرمیوں کی راتوں میں بہتر اور پُرسکون نیند فراہم کر سکتے ہیں۔