آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور(Mirpur) میں احتجاجی اور لاک ڈاؤن (Lockdown)کال کے حوالے سے شہریوں کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں، جہاں متعدد افراد نے کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی پر ممکنہ اثرات کے باعث تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر دیہاڑی دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار ہوں گے، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسائل کے حل کے لیے تمام فریقین کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
شہریوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر احتجاجی سرگرمیاں پرتشدد رخ اختیار کرتی ہیں تو اس سے علاقے کے امن و امان اور سماجی ہم آہنگی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود پرامن ماحول کو برقرار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مزیدپڑھیں:گلگت بلتستان کی 24 میں سے 20 نشستوں پر جیتنے والے امیدواروں کے سرکاری نتائج
میرپور کے بعض تاجروں اور رہائشیوں کے مطابق شہر میں معمول کے مطابق متعدد مارکیٹیں اور کاروباری مراکز کھلے رہے اور روزمرہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی سرگرمیوں کا تسلسل مقامی آبادی کے لیے اہم ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ فریق ہٹ دھرمی سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آئیں اور عوامی مسائل کا حل آئینی، قانونی اور جمہوری طریقوں سے تلاش کریں۔ ان کے مطابق طویل المدتی استحکام اور عوامی مفاد کے لیے مکالمہ ہی سب سے مؤثر راستہ ہے۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کا پرامن ماحول اور معاشی سرگرمیاں برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ عوامی مطالبات اور تحفظات کے حل کے لیے بامعنی مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔









