اسلام آباد: (دنیا نیوز) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری (Kashif chudhary)نے وفاقی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بینکر کا تیار کردہ بجٹ ہے، جس میں اعداد و شمار کے ہیر پھیر کے سوا عوام کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں دیا گیا۔
اپنے ردعمل میں محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ بجٹ میں غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات شامل نہیں کیے گئے، یہ ایک روایتی بجٹ ہے جس میں عوام اور کاروباری طبقے کے لیے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے مقابلے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں کیا گیا اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔
صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کا کہنا تھا کہ حکومت نے غیر حقیقی ٹیکس ہدف مقرر کیا ہے، اگر گزشتہ سال 13 ہزار ارب روپے کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا تو رواں سال مزید دو ہزار ارب روپے کیسے جمع کیے جائیں گے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام سے مزید وسائل حاصل کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہوں گی اور ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔
محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کو ختم یا ازسرِ نو ترتیب دینے کے حوالے سے بجٹ میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا جبکہ مہنگی بجلی اور مہنگے پیٹرول کے باعث پہلے سے پریشان عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں عوام، تاجروں اور کاروباری طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھا دیا گیا ہے جبکہ صنعتوں کا پہیہ چلانے، خام مال سستا کرنے، زراعت اور کسانوں کی بہتری کے لیے کوئی جامع پیکج نہیں دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نظام کو نہ تو آسان بنایا گیا اور نہ ہی منصفانہ، جبکہ عام تاجر پر بھی اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر کی مارکیٹوں میں پہلے ہی ویرانی چھائی ہوئی ہے اور 12 کروڑ سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے جا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:وزارتِ مواصلات اور این ایچ اے منصوبوں کیلئے 148 ارب 20 کروڑ مختص کرنیکی تجاویز
محمد کاشف چوہدری نے کہا کہ بھاری ٹیکس وصولیوں کے باوجود یہ رقم عام آدمی کی تعلیم اور صحت پر خرچ نہیں ہوتی بلکہ زیادہ تر سود کی ادائیگی اور حکومتی اخراجات پر صرف کی جاتی ہے۔








