سیول،جنوبی کوریا میں روایتی ’’انزائم باتھ‘‘ ایک بار پھر مقبولیت حاصل کر رہا ہے، تاہم اس بار اس کے شوقین زیادہ تر نوجوان ہیں۔ ماضی میں درمیانی عمر اور بزرگ افراد کی پسند سمجھے جانے والے اس ہیٹ تھراپی(Heat Thropy) علاج کی طرف اب 20 اور 30 سال کی عمر کے افراد تیزی سے راغب ہو رہے ہیں۔
اس منفرد تھراپی میں افراد کو ہینوکی سائپرس کی لکڑی کے برادے، چاول کی بھوسی اور جڑی بوٹیوں کے آمیزے میں گردن تک دفن کیا جاتا ہے۔ اس آمیزے میں موجود قدرتی جراثیم خمیر بناتے ہیں جس سے 40 سے 70 ڈگری سینٹی گریڈ تک حرارت پیدا ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ جسمانی درجہ حرارت کو بتدریج بڑھا کر خون کی روانی بہتر بناتا اور تھکن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
کوریا میں نوجوان اس تھراپی کو جسمانی سوجن کم کرنے، ذہنی دباؤ سے نجات پانے اور مصروف طرزِ زندگی کے اثرات ختم کرنے کے لیے اختیار کر رہے ہیں۔ بہت سے افراد فوٹو شوٹس یا اہم تقریبات سے قبل بھی انزائم باتھ کرواتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں اس سروس سے فائدہ اٹھانے والے نوجوانوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سیول کے کئی مراکز میں ہفتہ وار تمام بکنگز پہلے ہی مکمل ہو جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں:چین، ہوا بازی صنعت کا میگا منصوبہ، طیاروں کی ری سائیکلنگ کا آغاز
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور معروف اداکاروں و کے-پاپ ستاروں کی دلچسپی نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا ہے، جس کے باعث انزائم باتھ نوجوان نسل میں صحت اور آرام کا نیا فیشن بنتا جا رہا ہے۔








