بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا کیس، بیرون ملک بیٹھے پارٹی لیڈر پارلیمانی اراکین کو ہدایات دیاکرتے تھے، پارٹیوں میں بھی آمریت کی شکایت آچکی : چیف جسٹس

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر اور پریذائیڈنگ افسر دوست محمد مزاری کی رولنگ کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ حمزہ شہباز شریف کے وکیل کے دلائل جاری ہیں اور جیونیوز کے مطابق  دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ “بیرون ملک بیٹھے پارٹی لیڈر پارلیمانی اراکین کو ہدایات دیاکرتے تھے،آئین ترمیم کے ذریعے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کیاگیا، پارلیمانی پارٹی کی بھی اپنی منشاء ہوتی ہے،صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران واضح ہوگیا تھا کہ پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹر شپ ختم ہونا ضروری ہے ،ایک سینئر پارلیمانی لیڈر نے پارٹیوں میں آمریت کی شکایت کی تھی ، سیاسی جماعت کے سربراہان کو اپنے پارٹی اراکین کو سننا ہوگا۔ 

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے حمزہ شہباز کے وکیل سے پوچھا کہ ڈپٹی سپیکر نے عدالتی فیصلے کے جس نقطے کا حوالہ دیا وہ بتائیں۔وکیل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ پارٹی پالیسی کےخلاف ووٹ مسترد ہوجائے گا، یہی نقطہ ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی ہدایت اور ڈکلیئریشن دو الگ الگ چیزیں ہیں، کیا پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کا سربراہ ہوسکتا ہے؟

وکیل منصور اعوان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں درج ہے کہ پارٹی سربراہ کا کردار پارٹی کو ڈائریکشن دینا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل منصور اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سوال کا ڈائریکٹ جواب دیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چودہویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں ترمیم کی گئی، انہوں نےحمزہ شہباز کے وکیل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ترمیم شدہ آرٹیکل 63 اے پڑھیں، آرٹیکل 63 اے کے اصل ورژن میں دو تین زاویے ہیں۔

وکیل حمزہ شہباز  نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں پارٹی سربراہ کا ذکر موجود ہے، جسٹس عظمت سعید کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ ہی سارے فیصلے کرتا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ پارٹی پالیسی میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق دو الگ اصول ہیں، پہلے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی سربراہ کے اختیارات میں ابہام تھا، ترمیم کے بعد آرٹیکل 63 اے میں پارلیمانی پارٹی کو ہدایت کا اختیار ہے۔