بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خطے میں قیامِ امنِ پر وزیرِ اعظم، صدر، فیلڈ مارشل کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں: بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو (Bilawal Bhutto)نے کہا ہے کہ خطے میں قیام امنِ پر وزیرِ اعظم، صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل اور مسلح افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط تاریخی پیشرفت ہے، ایسے عناصر موجود ہیں جو امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان جنگ کی قیمتوں کو اچھی طرح جانتا ہے، ہم نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ امن کا مطالبہ کیا، جب امن ہوتا ہے تو ملک ترقی کرتا ہے، اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے اسحاق ڈار کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے آپریشن سندور ٹو کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، مغربی سرحدوں پر دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے، حکومت کے ساتھ طے کیا ہے کہ قومی دفاع کے لیے اپنا حصہ دیں گے، اندرونی سطح پر پانی پر دہشت گردی کو بھی روکنا ہوگا، پاکستان میں چھوٹے ڈیمز بنانے کے علاوہ بڑے منصوبے جلد مکمل کرنے ہوں گے، ہمیں ایسا حل چاہیے کہ ہم اپنی پانی کی ضروریات پوری کر سکیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاق کو معاشی مشکلات ہیں تو صوبوں کو بھی معاشی مشکلات ہیں، 18ویں ترمیم کے باوجود کسی صوبے کو اپنا شیئر نہیں دیا گیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صوبائی حکومتوں نے بار بار قربانی دی اور آج بھی دے رہے ہیں، حکومت کے ساتھ مل کر مختلف مسائل کا آئینی حل نکالا، خیبر پختونخوا نے بھی اپنے سیاسی مسائل کو ایک طرف رکھ کر فیصلہ کیا۔

کے پی حکومت نے قومی مفاد میں حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا، پی ٹی آئی کے فیصلے کو اس فلور پر ویلکم کرتا ہوں، اگر اسی انداز میں قومی مفاد کے لیے کام کرتے رہے تو ہر مشکل کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کام کرتا ہے، دنیا اس بات کو مانتی ہے، دنیا کہہ رہی ہے کہ بےنظیر انکم سپورٹ بہترین منصوبہ ہے، غربت کا مقابلہ کرنا ہے تو بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم نہیں بڑھانا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام نے لاکھوں گھرانوں کی مدد کی ہے، حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بی آئی ایس پی میں اضافہ ہو گا، وزیرِ اعظم نے پراپیگنڈے کے باوجود بی آئی ایس پی کو آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ آزاد کشمیر کو نیا منشور اور پارلیمنٹ میں نمائندگی دینا ہوگی، مہاجرین کو ووٹ کا حق بھی دیا جانا چاہیے اس پر کوئی رکاوٹ نہیں، زور دیتا ہوں کہ ایکشن کمیٹی سیاسی انداز میں معاملے کے حل کی طرف جائے، معاملےکو ایک مرتبہ مکمل حل کرلینا چاہیے، بار بار وہاں کے عوام کو یرغمال نہیں بننے دینا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ تجویز ہے کہ مخصوص نشستوں کی طرح مہاجرین کی نشستوں پر نتائج کے تناسب سے نمائندگی دی جائے، آزاد کشمیر میں مسائل پیدا کیےجا رہے ہیں۔

کھانے پینے کی اشیا کی قلت ہورہی ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے پولیس ایکشن لے، اس سے پہلے کہ زبردستی کرنا پڑے قانون توڑنے والوں سے مظاہرین خود کو الگ کریں، اگر وہ غیر مشروط طور پر احتجاج ختم کرتے ہیں تو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن واپس لیا جاسکتا ہے، عوامی ایکشن کمیٹی نے تو کبھی الیکشن نہیں لڑا۔

مزید پڑھیں:افغانستان: بھارتی خاتون وی لاگر کی طالبان کیساتھ چائے پیتے، اسلحہ تھامے تصاویروائرل

انہوں نے کہا کہ امیر مقام پسندیدہ نمائندہ ہے لیکن وہ کب تک وزارت کشمیر اپنے پاس رکھیں گے، آزاد کشمیر کو نیا منشور اور پارلیمنٹ میں نمائندگی دینا ہوگی۔