ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے آج سوئٹزرلینڈ(Switzerland) روانہ ہونا تھا، ایران امریکا معاہدے کے مطابق ابتدائی مذاکرات کل برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہوں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے وہ کر دکھایا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا،اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر فریقین نے الیکٹرانک دستخط کر دیے،اسلام آباد معاہدہ نافذ العمل ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد جاری ہے۔
اعلیٰ ترین سطح پر سیاسی کامیابی کے بعد رسمی دورے کی اہمیت کم ہو گئی تھی،پاکستان کا مقصد طے شدہ فریم ورک فراہم کرنا اور بحران کو ٹالنا تھا جو حاصل کر لیا گیا۔
اگلےمرحلےمیں پابندیوں کےخاتمے، سمندری سیکیورٹی اورجوہری اقدامات پرالگ تکنیکی مذاکرات ہونگے،پاکستان نےمحض دکھاوےکی میزبانی نہیں کی بلکہ ایک جامع فریم ورک کو تشکیل دیا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کے بیرونی قرضوں میں مزید3 ہزار 364 ارب روپے کا اضافہ
دورہ ملتوی ہونےکامطلب یہ ہےکہ سفارتکاری رنگ لےآئی اور معاہدہ برقرار ہے،پاکستان اس اہم معاہدے پر عملدرآمد کے لیے مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔









