بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کتنے لاکھ پر کتنا ٹیکس؟ تنخواہ دار طبقے کے لئے بڑی خبر آگئی

 قائمہ کمیٹی نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس(Tax) کی شرح کی تجویز منظور کرلی ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بجٹ میں جو ریلیف کی گنجائش تھی وہ دے دی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے نئے مالیاتی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح کے حوالے سے حکومتی تجویز کی
منظوری دے دی۔

اجلاس کے دوران مڈل کلاس طبقے پر ٹیکس بوجھ کم کرنے کے عوامی مطالبات پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ملکی مالی صورتحال کے پیشِ نظر مزید کسی قسم کے ریلیف کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سالانہ 22 لاکھ اور ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار روپے تک کمانے والے تنخواہ دار طبقے کو اب مزید ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ گزشتہ بجٹ میں اس آمدن والے طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کو 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کیا گیا تھا، جبکہ نئے بجٹ میں سالانہ 22 لاکھ روپے سے زائد کمانے والے تنخواہ دار طبقے کو بھی ہر سلیب میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے مزید بتایا کہ نئے بجٹ میں سالانہ ایک کروڑ روپے کی تنخواہوں اور آمدن پر عائد ‘سپر ٹیکس کا سرچارج’ ختم کر دیا گیا ہے اور اس سپر ٹیکس کو اب ایکسپورٹرز (برآمد کنندگان) پر سے بھی ختم کیا جا رہا ہے، جس کا بالواسطہ فائدہ تنخواہ دار طبقے کو ہی پہنچے گا۔

مزیدپڑھیں:دوسرا ٹی 20، آسٹریلیا نے بنگلادیش کو 7 رنز سے ہرا دیا

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس جو فیڈ بیک آ رہا ہے اس کے مطابق لوگ اس فیصلے پر خوش ہیں۔

اجلاس میں مڈل کلاس طبقے پر ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کے خلاف کمیٹی اراکین نے سخت موقف اپنایا، شرمیلا فاروقی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک سے دو لاکھ روپے کمانے والا خالص مڈل کلاس طبقہ ہے اور ان پر 11 فیصد ٹیکس بہت زیادہ ہے۔ حکومت اس طبقے پر ٹیکس کی شرح کو 11 فیصد سے مزید کم کرے۔

رکن کمیٹی شاہدہ اختر علی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جو عام لوگ آتے ہیں وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ ٹیکسوں کی بھرمار اور بھاری بوجھ سے شدید پریشان ہیں، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، اسے پورا کیا جائے۔

اراکینِ کمیٹی کے اصرار پر وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ریلیف کی جتنی گنجائش تھی، وہ ہم دے چکے ہیں، اگر اگلے بجٹ میں مزید گنجائش پیدا ہوئی تو ریلیف دینے پر غور کریں گے۔

اسی موقع پر سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بھی دوٹوک الفاظ میں تصدیق کی کہ اس وقت مڈل کلاس کو مزید ٹیکس چھوٹ دینے کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے

Pakistan income tax calculator 2026-27