اسلام آباد(نیوزڈیسک )صدرڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مفتی تقی عثمانی سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں صدر مملکت نے مفتی تقی عثمانی کے ذریعے افغانستان کے طلباء کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
صدر مملکت نے افغان طلباء کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور ورچوئل یونیورسٹی کے ذریعے آن لائن اور ورچوئل تعلیمی سہولیات کی پاکستانی پیشکش کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ افغانستان میں ملک گیر انٹرنیٹ نہیں ، ابتدائی طور پر تعلیمی مواد ٹیلی ویژن کے ذریعے افغان طلباء تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست پاکستان خواتین کو مردوں کے برابر تعلیمی مواقع فراہم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
انہون نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی مخصوص سماجی و اقتصادی روایات کے پیش نظر ، خواتین کی تعلیم کیلئے خصوصی انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔
ڈاکٹر عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ اسلام میں خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ہے،باقی دنیا کے خدشات دور کرنے کیلئے افغانستان کو اپنی ترجیحات کے مطابق خواتین کو تعلیم کی فراہمی کیلئے اقدامات کو میڈیا اور مواصلات کے تمام ذرائع سے پھیلانا چاہیے۔
یاد رہےکہ صدر مملکت افغان سفیر ، قونصل جنرلز اور دیگر حکومتی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران افغانستان کو ورچوئل تعلیم کی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ مفتی تقی عثمانی دورہ افغانستان پر جارہے ہیں اور اعلیٰ افغان قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
اسلام میں خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ہے ، صدرعلوی








