چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ شخص گو نے ایک حیران کُن کیس میں صرف 5 منٹ کی ویڈیو کال کے بعد طے ہونے والی شادی کے بعد طلاق (Divorce)کی درخواست دائر کر دی۔
رپورٹس کے مطابق گو نے ایک میچ میکنگ سینٹر میں 200 یوان ادا کر کے رجسٹریشن کروائی جہاں اس کی ملاقات شمال مغربی صوبے شانشی سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ خاتون سے کروائی گئی۔
خاتون کو پروفائل میں بے قرض، صحت مند اور جرائم سے پاک ظاہر کیا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ وہ دور رہ کر شادی اور فوری رشتہ قبول کرنے پر رضامند ہے۔
ویڈیو کال کے دوران زیادہ تر سوالات کا جواب میچ میکر کی طرف سے دیا گیا جبکہ گو نے صرف خاتون سے اس کی نوکری اور خاندان کے بارے میں مختصر بات کی۔
بعد ازاں نوجوان لڑکے اور لڑکی نے آمنے سامنے ملاقات کیے بغیر شادی کا فیصلہ کر لیا، شادی کے لیے لڑکے کی جانب سے مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ 65 ہزار یوان خرچ کیے گئے جن میں دلہن کے لیے رقم اور میچ میکنگ فیس بھی شامل تھی، دونوں کی شادی 3 دن میں رجسٹر کر دی گئی۔
مزیدپڑھیں:کچھ لوگوں کو مچھر زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں اہم انکشافات
تاہم شادی کے بعد حالات تیزی سے خراب ہو گئے، گو کو معلوم ہوا کہ خاتون کے نام پر 1 لاکھ یوان کا قرض موجود ہے جبکہ خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قرض اس کے سابق بوائے فرینڈ کا ہے، بعد میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس کے موبائل پیمنٹ اکاؤنٹ پر درج نام بھی مختلف تھا۔
مزید پوچھ گچھ میں خاتون نے صحت کے مسائل اور جگر کے کمزور ہونے کا بھی اعتراف کیا۔
ان مسائل کے پیشِ نظر گو نے صرف 9 دن بعد طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا، خاتون نے بعد میں دعویٰ کیا کہ اس فیصلے سے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی ہے اور اس نے 50 ہزار یوان معاوضہ بھی طلب کیا ہے۔
دوسری جانب میچ میکنگ سینٹر نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوڑا اس تنازع کو خود ساختہ بنا رہا ہے۔









