بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومتی اتحادکا فل کورٹ نہ بنانے سے متعلق سپریم کورٹ کافیصلہ ماننے سے انکار،عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کا اعلان

اسلام آباد(نیوزڈیسک)حکومتی اتحاد نے ڈپٹی سپیکرپنجاب اسمبلی کی رولنگ سے متعلق کیس میں فل کورٹ نہ بنانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہاہے کہ اگر فل کورٹ نہیں بنایا جاتاتو ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔

پیرکی شب وزیراعظم ہاؤس میں حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین کے مشاورتی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے استدعاکی تھی کہ 3جج نہیں فل کورٹ سنے، لیکن بدقسمتی سے ہماری استدعاکو مسترد کردیاگیا ہے، فل کورٹ نہ بنایاگیا تو ہم بھی عدلیہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں، ہم اس بنچ کے سامنے پیش نہیں ہو ں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہےکوئی ادارہ مداخلت نہ کرے، عدالت میں ہمارے وکلا نے بینچ کو آئین کے مطابق مشورہ دیا، بدقسمتی سےعدلیہ نے غیرجانبداری سے ہمارے مطالبے پر غور کے بجائے اسے مسترد کردیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومتی اتحاد نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، جب ایک ادارے سے متعلق فیصلہ دیا جا رہاہےتو عدلیہ کے بھی پورے ادارےکوبیٹھنا چاہیے تھا، پیپلزپارٹی اورپی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں نےعدالتی کارروائی کابائیکاٹ کردیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے، ہم نےکہا تھا فیصلہ فل کورٹ کا ہوگا تو پورا پاکستان قبول کرےگا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حمزہ کےحق میں ڈالے گئے 20 ووٹ نہیں گنےگئے، اس سے متعلق نظرثانی کی درخواستیں سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہیں۔
اس سے قبل مشاورتی اجلاس میں حکمران اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین نے فل کورٹ کے مطالبے سے پیچھے نہ ہٹنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف، سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری اجلاس میں شریک ہوئے،اس کے علاوہ اجلاس میں ایم کیوایم، مسلم لیگ (ق)، اے این پی کے قائدین، بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین بھی شریک ہوئے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پارٹی کے دیگر قائدین بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں تمام قائدین نے متفقہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا۔