عراق کے دارالحکومت بغداد(Baghdad) میں اتوار کی صبح اس وقت غیرمعمولی سیکیورٹی صورتحال پیدا ہوگئی جب فوج اور انسدادِ دہشت گردی فورس نے انتہائی حساس گرین زون میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔
کارروائی کے دوران متعدد سیاست دانوں کو مالی بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم حکام نے تاحال کسی نام یا سرکاری بیان کی تصدیق نہیں کی۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون میں اتوار کی صبح عراقی سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ ایک سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق کارروائی کا ہدف کئی سیاست دان تھے جن کے خلاف مالی بدعنوانی کے مقدمات میں عدالتی احکامات جاری کیے گئے تھے۔
گرین زون بغداد کا سب سے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے، جہاں امریکی سفارت خانہ، دیگر سفارتی مشنز، بین الاقوامی اداروں کے دفاتر، سرکاری عمارتیں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی رہائش گاہیں واقع ہیں۔
US embassy Green Zone Baghdad a warzone
Top officials being arrested with heavy armor + gunfire pic.twitter.com/frhjKoOIg0
— RT (@RT_com) June 28, 2026
مقامی ٹیلی گرام چینلز پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹینکوں اور دیگر بھاری فوجی گاڑیوں کے ہمراہ سیکیورٹی اہلکار گرین زون میں موجود ہیں۔ بعض ویڈیوز میں فورسز کو رہائشی کمپاؤنڈز اور گھروں کے اندر کارروائیاں کرتے بھی دکھایا گیا۔
مزیدپڑھیں:’’ایران سے سستا تیل اور گیس کی خریداری‘‘ وفاقی وزیر نے خوشخبری سنا دی
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی عہدیدار نے، شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ کارروائی عدالتی احکامات کی روشنی میں مالی بدعنوانی کے الزامات پر کی گئی۔ ان کے مطابق آپریشن میں انسدادِ دہشت گردی فورس اور عراقی فوج نے مشترکہ حصہ لیا۔
عہدیدار نے گرفتار ہونے والی شخصیات کے نام یا تعداد سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائیوں کا مقصد عراق کی اعلیٰ سیاسی شخصیات کو گرفتار کرنا تھا، تاہم زیرِ حراست افراد کی شناخت کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
Non stop bullet hell locks down US embassy Green Zone https://t.co/E1MZhvISxG pic.twitter.com/4Q4zJcGb0r
— RT (@RT_com) June 28, 2026
واضح رہے کہ عراق کے نئے وزیراعظم علی الزیدی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں کئی دہائیوں سے جاری بدعنوانی اور انتظامی بدحالی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، اور حالیہ کارروائی کو اسی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔








